انوارالعلوم (جلد 21) — Page 393
انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۹۳ اسلام اور ملکیت زمین کے نزدیک زیادہ شاندار ہیں لیکن کمیونزم کے معروف اصول کے ماتحت وہ کمیونسٹ تعلیم کو اسلامی تعلیم قرار دے کر پاکستانی عوام میں اس کو مقبول بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔چونکہ اس کی کی ظاہری شکل ایسی ہے کہ موجودہ اکثریت اس کے حق میں چلی جاتی ہے اس لئے اسلام کے نام کی وجہ سے عوام الناس ان کے بعض اصول کو اپنا لیتے ہیں اور جب دوسرے سیاسی لیڈر یہ دیکھتے ہیں کہ فلاں فلاں نظریہ عوام میں بہت مقبول ہو گیا ہے تو وہ بھی اس نظریے کو اپنا نا اپنی کامیابی کے لئے ضروری سمجھ لیتے ہیں۔چنانچہ ایسے ہی مسائل میں سے ایک ملکیت زمین کا تلہ ہے۔کمیونسٹ تحریک نے مختلف سیاسی پارٹیوں کے ساتھ شامل ہو کر یہ آواز بلند کرنی شروع کی ہے کہ زمین کی ملکیت کے متعلق ہمارے ملک میں اصلاح کی ضرورت ہے اور جو اصلاح انہوں نے تجویز کی ہے وہ تفصیلاً وہی ہے جو کمیونزم نے تجویز کی ہے لیکن پاکستان کے عوام الناس کے احساسات کا خیال رکھتے ہوئے اس کا نام اسلامی اصلاح رکھا گیا ہے۔بعض نے تو اسلامی تعلیمات کو توڑ مروڑ کر ایسی شکل دینے کی کوشش کی ہے کہ لوگ اس تحریک کو اسلامی ہی سمجھیں۔بعض نے بعض اصولی آیات یا احادیث کو لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے تعامل کو بالکل نظر انداز کر کے کچھ نئے معنی ان آیات اور احادیث کو دے دیئے ہیں جن سے ان کے نظریہ کی تصدیق ہوتی ہے اور بعض نے بعض دوسرے طریقے اختیار کئے ہیں جن کی تفصیل میں پڑنے کا یہ موقع نہیں۔اس پروپیگینڈا سے متاثر ہو کر مسلم لیگ نے بھی کی زمیندارہ سسٹم کی اصلاح کے متعلق مختلف جگہوں پر کمیٹیاں مقرر کیں۔بعض جگہ حکومت کے انتظام کے نیچے اور بعض جگہ صرف مسلم لیگ کے انتظام کے نیچے اس مسئلہ پر غور کیا گیا۔پنجاب، سندھ، صوبہ سرحد اور ایسٹ بنگال میں ایسی کمیٹیاں بنی ہیں اور اُنہوں نے اپنی رپورٹیں پیش کی ہیں اور ان رپورٹوں پر غور کرنے کے بعد مرکزی مسلم لیگ نے بھی ایک کمیٹی مقرر کی ہے جس کی رپورٹ پر غور کرنے کے لئے پھر اس نے ایک اور سب کمیٹی مقرر کی اور اس سب کمیٹی کی رپورٹ پر مسلم لیگ کی مجلس عاملہ نے زمیندارہ اصلاح کے متعلق کچھ اصول تجویز کر کے صوبجاتی حکومتوں کو توجہ دلائی کہ ان اصول کو اپنے ملک میں جاری کرنے کی کوشش کریں۔