انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 378 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 378

انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۷۸ قادیان سے ہماری ہجرت ایک آسمانی نقد ی تھی بھی تعلیم دلائیں اس طرح جماعت مضبوط ہو گی۔پھر یہاں آ کر اجتماعی عبادات سے فائدہ اُٹھا ئیں۔اجتماعی دعا ئیں بہت بابرکت ہوتی ہیں۔سب سے بڑی جماعت بہر حال ربوہ میں ہی ہے (اس سے پہلے سب سے بڑی جماعت قادیان میں تھی ) اس لئے اس جگہ کی عبادت کا فائدہ بہر حال اُس عبادت سے زیادہ ہو گا جو تم اپنے گھروں میں کرتے ہو۔دوسرے تعمیر میں جتنی مشکلات ہیں اُن کا دوستوں کو علم ہو گا۔جتنی دلچسپی اس کام میں نواب محمد الدین صاحب مرحوم نے لی ہے باقیوں نے نہیں لی حالانکہ جماعت کے مرکز کو مضبوط بنانا ایسا کام ہے کہ مومن کو اپنے بیوی بچوں سے بھی زیادہ اسے مقدم سمجھنا چاہیے۔اب میں ایک بات مہاجرین سے بھی کہتا ہوں۔مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پچھلی دفعہ بھی اور اس دفعہ بھی میں نے دیکھا ہے کہ ان کے چہروں پر ایک افسردگی سی طاری ہے۔میں نہیں سمجھتا کہ ایسا کیوں ہے؟ دوسرے لوگ مایوس رہیں تو رہیں ہمارا تو ایک زندہ خدا ہے، ہمارے لئے مایوسی اور افسردگی کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی بلکہ مومن تو ہزار بھٹیوں سے بھی گزر کر پھر بھی خوش رہتا ہے۔میں نے کئی دفعہ واقعہ سنایا ہے کہ ایک جرمن عورت کے سات لڑکے تھے۔چھلی جنگ عظیم میں وہ ساتوں کے ساتوں مارے گئے جب اُس کا ساتواں بچہ مارا گیا تو فوج کی کے کمانڈر نے وزیر جنگ کو اطلاع بھیجی کہ اس عورت کی عزت افزائی کی جائے۔وزیر جنگ نے قیصر کو بتایا اس نے بھی اسے نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھا اور کہا میرے نام سے اس عورت کا شکر یہ ادا کیا جائے۔وہ لوگ تو قیصر کو خدا سمجھتے تھے۔قیصر نے وزیر جنگ سے کہا کہ اُس عورت کو بُلائے اور میری طرف سے شکر یہ ادا کرے۔وزیر جنگ نے اُس عورت کو بلایا اور بڑا اعزاز کیا اور کہا میں قیصر کی طرف سے تمہارا شکر یہ ادا کرتا ہوں تمہارے ساتوں بچے ملک کی خدمت کرتے ہوئے مارے گئے ہیں۔انگریز جنگ کے زمانہ میں بھی دوسرے ملکوں میں انہی میں سے نامہ نگار رکھا کرتے تھے جو حالات انہیں بھیجتے رہتے تھے۔میں ڈیلی کرا نیکل اخبار منگوایا جی کرتا تھا اُس میں لکھا تھا کہ جب وہ عورت باہر آئی نامہ نگار نے لکھا کہ میں بھی وہاں کھڑا تھا وہ تجھ ۸۰ سال کی بڑھیا تھی، اُس کے اعصاب کا نپ رہے تھے اور اُس سے کھڑا نہیں ہوا جا تا تھا مگر اس نے دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر اپنی کمر کو سیدھا کیا اور ایک جھوٹا قہقہ لگا کر کہا آخر ہوا کیا