انوارالعلوم (جلد 21) — Page 362
انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۶۲ قادیان سے ہماری ہجرت ایک آسمانی نقد ی تھی خدا تعالیٰ نے اس جلسہ کی وجہ سے کہ اس کے بندے ایک بڑی تعداد میں یہاں آئے اور اُنہوں نے اس کے ذکر کو بلند کیا اس الہام کو بھی پورا کر دیا۔جس طرح بادشاہ کے آنے پر لوگ تھے دیا کی کرتے ہیں اسی طرح اس دفعہ خدا تعالیٰ نے کہا میرے بندے آئے ہیں چلو انہیں تحفہ کے طور پر میٹھا پانی ہی دے دو۔چنانچہ سرکاری ٹکڑوں میں جہاں میرا گھر بنایا جا نا تجویز کیا گیا ہے اُسی جگہ کے نیچے خدا تعالیٰ نے پانی نکال دیا ہے۔پہلے یہاں پانی نہیں نکلتا تھا ہم نے لائکپور کے محکمہ کے ذریعہ تین جگہ بورنگ کروائی مگر بے سود لیکن عین اُس جگہ کے نیچے جہاں میرا مکان تجویز کیا گیا ت تھا پانی نکل آیا۔چنانچہ آپ نے دیکھا ہے کہ کنویں پر انجن لگا ہوا ہے اور وہی پانی آپ لوگ استعمال کر رہے ہیں۔میں نے جماعت کو بار بار توجہ دلائی ہے کہ جن حالات سے ہم گزر رہے ہیں ان سے بڑی بڑی قربانیاں ابھی ہمارے سامنے آنے والی ہیں۔جیب سے کچھ خرچ کر کے گھروں میں بیٹھے ہوئے با ہر مبلغ بھیج دینے سے ہمارا مقصد پورا نہیں ہو سکتا۔یہ کام تو دوسری سوسائٹیاں بھی کر سکتی ہی ہیں۔نبیوں کی قو میں ماریں کھاتی ہیں اور وطن سے نکالی جاتی ہیں۔پس جب تک ہم بھی ان حالات سے نہیں گزریں گے ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔تحریک جدید کے اعلان کے بعد میں نے متواتر خطبات جمعہ میں احباب کو اس طرف توجہ دلائی تھی۔چنانچہ یہ پہلا موقع ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے ہم سے وہ کام کرایا ہے جو پچھلے انبیاء کی قو میں کرتی چلی آئی ہیں اور وہ یہ کہ ساری کی ساری قوم اپنے مرکز کو چھوڑ کر باہر آ گئی۔جائداد میں لٹ گئیں ، رشتہ دار مارے گئے ، بہن بھائی قتل ہوئے ، بعض عورتیں اُدھر ہی رہ گئیں۔اب ہم اُن دروازوں سے گذرے ہیں جن سے انبیاء کی جماعتیں گزرا کرتی ہیں اور یقیناً اس کے نتیجہ میں جنت بھی تمہیں نصیب ہو جائے گی۔لوگ کہتے ہیں قادیان سے نکلنے کے بعد ہم اپنے مقصد کو کھو بیٹھے ہیں میں کہتا ہوں کہ قادیان سے ہم نکلے اور ہم نے اپنے مقصد کو پا لیا کیونکہ ہم نے وہ کچھ کر لیا جو انبیاء کی جماعتیں کرتی چلی آئی ہیں۔اگر ہم ان دروازوں سے نہ گذرتے تو ایک نبی کی جماعت نہ کہلا سکتے۔تم مجھے کسی ایک نبی کی قوم ہی دکھا دو جو بغیر تکلیفوں کے اور بغیر وطن سے نکلنے کے جیتی ہو۔۔