انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 363

انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۶۳ قادیان سے ہماری ہجرت ایک آسمانی نقد ی تھی آخر دنیا کو فتح کرنا کوئی کھیل نہیں کہ ایک انجمن بنالی اور مثلاً اس کا نام ترقی اسلام یا حمایت اسلام رکھ لیا اور سمجھ لیا کہ ہم اسلام کو دنیا میں غالب کر دیں گے۔اس قسم کی انجمنوں سے انبیاء کی قو میں نہیں جیتا کرتیں۔انبیاء کی جماعتیں قتل کی جاتی ہیں ، انہیں وطنوں سے نکالا جاتا ہے ، اُن کی جائداد میں لوٹی جاتی ہیں تب وہ کامیاب ہوا کرتی ہیں۔پھر ایک اور چیز بھی قابل غور ہے اور وہ یہ کہ اگر تم اپنے وطنوں سے نکالے گئے ہو، اگر تم میں سے بعض قتل کئے گئے ہیں اور تمہاری جائداد میں لوٹی گئی ہیں تو تمہارے ساتھ دوسرے لوگ بھی تو ہیں جن کے ساتھ ایسا سلوک ہوا یہ کیوں ہوا؟ میں کہتا ہوں آؤ ذرا قرآن کریم دیکھو۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مصر سے نکلنے کے متعلق جہاں ذکر آتا ہے ، وہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام نے مصر کو چھوڑا تو ان کے ساتھ وہ لوگ بھی تھے جو آپ کی جماعت میں شامل نہیں تھے۔پس بعض دفعہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسے ابتلاء بھی لائے جاتے ہیں کہ وہ صرف نبی کی قوم پر ہی نہیں آتے بلکہ اُن کے ساتھ دوسروں پر بھی آتے ہیں مگر مقصود صرف نبی کی جماعت ہوتی ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ جو غیر از جماعت لوگ آئے کنعان انہیں نہیں ملا۔کنعان حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کو ملا۔اسی طرح تمہارے ساتھ جو دوسرے لوگ مشرقی پنجاب سے نکلے تھے انہیں کوئی مرکز نہیں ملا۔مرکز ملا ہے تو تمہیں ملا ہے کیونکہ اس سے مقصود صرف تم ہی تھے۔تم نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ہم اکٹھے رہیں گے خواہ جنگل میں ہی ہمیں بسنا پڑے۔یہی عزم نبیوں کی جماعتوں میں پایا جاتا ہے مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے عزم کر لیا تھا کہ وہ اکٹھے رہیں گے۔خدا تعالیٰ نے انہیں کنعان کا ملک دے دیا لیکن اس کے غیر نے یہ عزم نہیں کیا تھا۔یہی عزم ہے جو انبیاء کی جماعتوں کو کا میاب بنا تا ہے۔یہی عزم ہے جس کی کی طرف میں تمہیں توجہ دلاتا ہوں۔تم یہ عزم کر لو کہ ہم اکٹھے رہیں گے اور خواہ ہمیں کتنی ہی تی تکلیفیں دی جائیں ہم کبھی جدا نہیں ہوں گے۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مسیح کو کہا جائے گا کہ پہاڑوں پر جا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بھی یہی کہا گیا تھا کہ تو ہجرت کرے گا لیکن آپ فوت ہو گئے اور آپ کے زمانہ میں یہ بات پوری نہ ہوئی اب کیا اس کے یہ