انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 361

انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۶۱ قادیان سے ہماری ہجرت ایک آسمانی تقدیر تھی میں نے کل پرندوں کا ذکر کیا تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک الہام بھی ہے که يَا جِبَالُ أَوْبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ " اے پہاڑو اور اسے پرندو ! تم اس مسیح کے ساتھ مل کر خدا تعالیٰ کے ذکر کو بلند کرو ۔ اس الہام میں یہ اشارہ کیا گیا تھا کہ آئندہ کسی وقت پہاڑوں میں بھی خدا تعالیٰ کا ذکر بلند کیا جائے گا اور اس میں مسیح بھی شامل ہوگا ۔ لیکن جب وقت لمبا ہو گیا اور لوگوں میں یہ خیال پیدا ہو گیا کہ وہ سوسائٹیاں بنا کر اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے تو خدا تعالیٰ نے مجھے بتایا کہ تمہیں انہیں رستوں سے گزرنا ہوگا جن سے پہلے انبیاء کی جماعتیں گذری ہیں ۔ چنانچہ مجھے الہامات ہونے شروع ہوئے کہ ہمیں قادیان چھوڑ نا پڑے گا اور کسی پہاڑی مقام میں پناہ لینی پڑے گی پھر وہاں سے ہم خدا تعالیٰ کے ذکر کو بلند کریں گے ۔ یہ چیز بتاتی تھی کہ پہلی پیشگوئی ختم نہیں بلکہ ابھی چل رہی ہے۔ چنانچہ بعد میں عملاً لڑائیاں ہوئیں اور قادیان ہمیں چھوڑنا پڑا سواب تعبیر کی ضرورت نہیں ۔ باقی رؤیا میں جو سبزہ دکھایا گیا تھا دیکھیں خدا تعالیٰ اسے کس رنگ میں پورا کرتا ہے۔ پچھلے جلسہ کے بعد جب ہم لاہور واپس جانے لگے تو میں ، تین چار مستورات اور دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کے چند آدمی موٹر کے ذریعہ گئے اور باقی افراد ٹرین کے ذریعہ۔ پہلے ٹرین لیٹ تھی اور اس کے آنے میں دیر ہوگئی اس لئے ہم نے سب سواریوں کو واپس بلا لیا لیکن جب ٹرین آئی تو ایک انسپکٹر جو ساتھ تھا اُس نے کہا کہ کچھ ڈبے لاہور سے آئے ہیں اور ریز رو ہیں ان کا دوسری گاڑی کے ساتھ لگانے کا انتظام ہوگا اور دوسری ٹرین ان کا انتظار کرے گی اس لئے ان سواریوں کو پھر ٹرین کے ذریعہ بھیج دیا گیا۔ جب ٹرین چلی تو معلوم ہوا کہ ان کا کھانا رہ گیا ہے اس پر کھانا موٹر کے ذریعہ چنیوٹ بھجوا دیا گیا۔ اب صورت یہ تھی کہ جب تک موٹر واپس نہ آئے میں لاہور نہیں جا سکتا تھا اس لئے میں لیٹ گیا ۔ اُس وقت مجھ پر غنودگی سی طاری ہوئی اور اس نیم غنودگی کی حالت میں میں نے دیکھا کہ میں خدا تعالیٰ کو مخاطب کر کے یہ شعر پڑھ رہا ہوں ۔ جاتے ہوئے حضور کی تقدیر نے جناب پاؤں کے نیچے سے مرے پانی بہا دیا اس سے میں نے سمجھا کہ خدا تعالیٰ کوئی ایسی صورت ضرور پیدا کر دے گا کہ پانی نکل آئے ۔سو