انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 360 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 360

انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۶۰ قادیان سے ہماری ہجرت ایک آسمانی نقد ی تھی جائدادیں چھوڑ کر یہاں آنے کے بعد لوگ کہتے کہ یہ جھوٹا تھا، اس لئے قادیان سے نکل آیا لیکن اتنی بڑی ٹھوکر کے بعد بھی جماعت متزلزل نہیں ہوئی بلکہ پھر اکٹھی ہوگئی اور اس نے دشمنانِ احمدیت کو بتا دیا کہ اتنے بڑے ابتلاء اور اتنی بڑی ٹھوکر کے بعد بھی وہ پہاڑ کی طرح کی کھڑی ہے اور اُس وقت تک کھڑی رہے گی جب تک کہ کفر اس سے ٹکرا کر پاش پاش نہیں ہو جا تا۔پھر میں نے بھی ہجرت کے متعلق کھلی کھلی رؤیا دیکھی تھیں جو الفضل میں چھپ چکی ہیں اور میں نے پچھلے جلسہ سالانہ کے موقع پر سنائی بھی تھیں۔اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئیاں پوری ہو چکی تھیں تو پھر مجھے یہ نظارے کیوں دکھائے گئے ؟ یہ اللہ تعالیٰ کے رازوں میں سے ایک راز ہے کہ اس کا نبی خبر دیتا ہے اور وہ بظاہر بعض اور لوگوں پر بھی صادق آتی ہے۔مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا الہام تھا A Word and Two Girls ( اے ورڈ اینڈ ٹو گرلز ) یعنی ایک کلام اور دولڑ کیاں۔یہ الہام اپنے اندر ایک خاص حکمت رکھتا تھا اور اس نے آئندہ کسی زمانہ میں پورا ہونا تھا لیکن جب یہ الہام شائع ہوا اُڑیسہ کے احمدی دوست قادیان آ رہے تھے اُن کے ساتھ ان کی دو لڑکیاں بھی تھیں۔اُنہوں نے اس الہام کو اپنے اوپر چسپاں کر لیا اور کہا سُبحَانَ اللہ کتنی جلدی پورا ہوا۔میں یہاں آیا ہوں اور میرے ساتھ دولڑ کیاں بھی ہیں۔غرض بعض لوگ تو پیشگوئیوں کو کسی معمولی چیز پر چسپاں کر کے وہیں چھوڑ دیتے ہیں اور بعض دفعہ لوگ انہیں قیامت کے بغیر اور کسی چیز پر چسپاں ہی نہیں کرتے جیسے مسلمانوں نے اس زمانہ کے متعلق جس قدر پیشگوئیاں تھیں انہیں قیامت پر لگا دیا حالانکہ ہم ان کے ساتھ آجکل یورپ کو شرمندہ کر رہے ہیں۔گویا پہاڑ ٹوٹنے کی خبر کو بعض تو گھڑا ٹوٹنے پر لگا دیتے ہیں اور بعض کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو قیامت کے متعلق ہے اس لئے خدا تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ جب اس کی کسی پیشگوئی کے پورا ہونے کا وقت آتا ہے تو وہ اس کی کسی اور ذریعہ سے بھی خبر دے دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہام ہوا ” داغِ ہجرت اور جب اس کے پورا ہونے کا وقت آیا تو خدا تعالیٰ نے مجھے بعض نظارے دکھائے جن سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ الہام اسی زمانہ کے متعلق تھا تو سو پورا ہو گیا۔