انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 354 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 354

انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۵۴ قادیان سے ہماری ہجرت ایک آسمانی نقد ی تھی کہ وہ باتیں کم اہم ہیں۔پس اگر ہمارے ربوہ میں آباد ہونے کا ذکر پہلے سے انبیاء کی کتابوں میں ہے تو ماننا پڑے گا کہ یہ الہی تقدیریتی خواہ اس کی حقیقت ہم پر آج کھلی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امر کی خبر دی ہے کہ جب مسیح دنیا میں آئے گا تو اُس وقت دو قو میں نکلیں گی اور اُن کا جتھہ اتنا مضبوط ہوگا کہ ان کے مقابلہ کی کسی میں طاقت نہیں ہو گی۔اُس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُسے آواز آئے گی کہ حَرِّزْ عِبَادِى إِلَى الطُّورِ کہ تو ہمارے بندوں کو پہاڑ کی طرف لے جا۔اس حدیث میں یہ خبر دی گئی ہے کہ کسی زمانہ میں مسیح موعود کی جماعت کو اپنا مرکز چھوڑنا پڑے گا اور وہ کسی پہاڑی علاقہ میں جاگزیں ہوگی۔اب سارے پنجاب میں کس کو علم تھا کہ وہ چی اس جگہ ٹھہرے گی۔یہ خدائی فعل تھا کہ ہجرت کے بعد اس نے جماعت کو اس جگہ لا کر ا کٹھا کر دیا باوجود اس کے کہ مجھے بھی رویا میں یہ جگہ دکھائی گئی تھی مگر پھر بھی میری نظر میں یہ جگہ نہ تھی۔میں شیخو پورہ کے ضلع میں کوشش کر رہا تھا کہ کہیں ایسی جگہ مل جائے جہاں جماعت کا عارضی مرکز بنایا ای جائے۔ایک دفعہ میں اس بارہ میں بعض دوستوں سے مشورہ کر رہا تھا کہ چوہدری عزیز احمد صاحب سب حج آئے اور اُنہوں نے کہا میں ایک جگہ بتاؤں جس کا میں خود واقف ہوں۔چناب پار ایک جگہ ہے جس پر آپ کی خواب کے اکثر حصے چسپاں ہوتے ہیں۔چنانچہ ایک تاریخ مقرر کی گئی اور میں نواب محمد الدین صاحب مرحوم ، میاں بشیر احمد صاحب اور بعض اور دوست یہاں آئے اور یہ جگہ دیکھی۔جب میں نے یہ مقام دیکھا تو سوائے اس کے کہ یہاں سبزہ نہیں تھا باقی تمام علامات درست نکلیں اور میں نے سمجھ لیا کہ یہ وہی جگہ ہے جو مجھے خواب میں دکھائی گئی تھی۔سبزہ کے متعلق میں نے سمجھا کہ شاید اس کی کوئی اور تعبیر ہو۔ظاہر ہے کہ ۵ ہزار مربع میل کے علاقہ میں کوئی جگہ تلاش کرنا آسان بات نہیں۔بعض غیر احمدی افسر اور معززین جب یہاں سے گزرتے ہیں تو کئی ان میں سے مجھے ملنے کے لئے آ جاتے ہیں اور بے ساختہ کہہ اُٹھتے ہیں کہ آپ نے تو غضب کی جگہ چنی ہے۔اب یہ کوئی اتفاقی بات نہیں کہ چوہدری عزیز احمد صاحب سب حج کو میری وہ خواب یاد آ گئی جس میں ہجرت کے بعد یہاں آنا دکھایا گیا تھا۔پھر اُن کے ذہن میں یہ بات آئی کہ یہ وہی جگہ ہے جس کا خواب میں ذکر ہے۔پھر جس مجلس میں اس کا ذکر