انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 3 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 3

انوار العلوم جلد ۲۱ افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ لاہور ۱۹۴۸ء بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ جماعت احمد یہ لاہور فرموده ۲۵ دسمبر ۱۹۴۸ء۔بمقام لاہور ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔اس وقت میں تقریر کیلئے نہیں بلکہ دعا کیلئے آیا ہوں جیسا کہ میرا طریق ہے کہ دعا سے پہلے کچھ باتیں کہتا ہوں۔اس طریق کے مطابق آپ کے سامنے کچھ باتیں رکھنا چاہتا ہوں۔دنیا میں جتنے کام ہوتے ہیں ان کے کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی راستہ ہوتا ہے اور جتنے کام کرنے والے ہوتے ہیں ان کے سامنے کوئی نہ کوئی مقصد ہوتا ہے۔نہ ہی صحیح راستہ پر چلے بغیر کوئی قوم منزل پر پہنچ سکتی ہے اور نہ مقصد کے بغیر کوئی قوم یک جہتی سے کام کر سکتی ہے۔اس امر کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یوں بیان فرمایا ہے کہ وَآتُوا الْبُيُوتَ مِن أبوابها ل ہر گھر جس میں تم داخل ہونا چاہتے ہو اس کے دروازہ میں سے داخل ہو جاؤ۔یعنی ہر وہ کام جسے تم اختیار کرنا چاہتے ہو، اس کے حصول کا جو طریق ہے وہ اختیار کرو۔صحیح طریق اختیار کرنے کے بعد قوم کے پیش نظر کسی مقصد کا ہونا ضروری ہے۔اگر کسی قوم کا کوئی مقصد نہ ہو تو وہ کامیاب نہیں ہو سکتی۔جس طرح دروازے میں داخل ہونے کے بغیر گھر میں داخل ہونا مشکل ہے اسی ہے طرح اپنے مقصد کے مقرر کرنے کے بغیر کامیابی محال ہے۔قرآن کریم میں لكل وجمَةً هُوَ مُوَتِيْهَا ہے کہ ہر ذی عقل شخص کا کوئی مقصد ہوتا ہے جسے سامنے رکھ کر وہ چلتا ہے۔اسی طرح ہر قوم کا جو کسی قانون یا تنظیم کے تحت اپنے آپ کو چلاتی ہے کوئی مقصد ہونا چاہئے۔اگر بغیر مقصد کے کچھ لوگ کسی جگہ اکٹھے ہو جائیں تو ان میں قربانی کی روح پیدا