انوارالعلوم (جلد 21) — Page 4
انوار العلوم جلد ۲۱ افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ جماعت احمد یہ لاہور ۱۹۴۸ء ہوتی ہے نہ ہی ہمت اور جوش پیدا ہو سکتا ہے نہ وہ کامیابی حاصل کر سکتے ہیں اور نہ ہی ایسا اعلیٰ پروگرام جس پر عمل کر کے دنیا میں ممتا ز جگہ حاصل کر سکیں پیش کر سکتے ہیں۔پس ہماری جماعت کو یہ دونوں زریں اصول کبھی نہ بھولنے چاہئیں۔ہمارا مقصد تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرما دیا ہے کہ اسلام کو دنیا میں غالب کرنا پس ہمارا مقصد ہمارے سامنے ہے۔اسے حاصل کرنا ہمارا کام ہے۔ایسا غلبہ جو دلائل اور تعلیم کے لحاظ سے ہم دنیا کے سامنے پیش کر سکتے ہیں وہ تو قرآن کریم میں موجود ہے اور وہ اعلیٰ تعلیم جس کی وجہ سے یہ تمام مذہبی کتب سے افضل ہے اس میں موجود ہیں اور ہر شخص جو غور کرے اس کو دیکھ سکتا ہے لیکن جب تک ان دلائل کو عملی طور پر پیش نہ کیا جائے محض دلائل سے کو ئی شخص قائل نہیں ہو سکتا۔لوگوں کا نی عام طریق ہوتا ہے کہ جب وہ دلائل سے عاجز آ جاتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ بتاؤ تم نے اس تعلیم پر عمل کر کے کونسا تغیر اپنے اندر پیدا کر لیا ہے، کون سا اعلیٰ مقام حاصل کر لیا ہے، کون سی تی فضیلت حاصل کر لی ہے۔چنانچہ آج دشمن اسی طریق سے اسلام پر طعنہ زن رہا ہے۔جب ہم اس کے سامنے اسلام کی تعلیم پیش کرتے ہیں تو کہتا ہے بتاؤ اسلامی ممالک نے کون سی رواداری کی مثال پیش کی ہے اور کون سے فتنے فساد انہوں نے رفع کئے ہیں کون سا نیا تغیر اُنہوں نے پیدا کیا ہے اور اگر اُنہوں نے اسلام کی تعلیم پر عمل کر کے کچھ نہیں کیا تو اس تعلیم کو تم ہمارے سامنے کیوں پیش کرتے ہو۔جب اس کے ماننے والے اسے رڈ کر چکے ہیں تو نہ ماننے والے کیونکر قبول کریں۔یہ ایسا زبردست اعتراض ہے کہ اس کے سامنے ہمارے لئے بولنے کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔پس ضرورت ہے کہ ہم اپنے اندر تغیر پیدا کریں اور اسلام کی تعلیم کے ساتھ عمل کا ایسا اعلیٰ نمونہ پیش کریں کہ دشمن بھی اسلام کی علمی و عملی برتری کا اقرار کرنے لگے۔جب تک ہم عملی نمونہ پیش نہ کریں ہم غلبہ نہیں پاسکتے۔پس یہ وہ دروازہ ہے جس سے گزر کر ہم اپنے مقصد کو پالیتے ہیں اور اسلام کے غلبہ کی عمارت میں داخل ہو سکتے ہیں۔جہاں تک ہمارے مقصد کا تعلق ہے وہ واضح ہے کہ قرآن کریم میں ہمارا فریضہ اسلام کو دوسرے ادیان پر غالب کرنے میں کوشاں رہنا بیان فرمایا ہے لیکن جہاں تک عمل کا سوال ہے اس میں ہم تہی دست ہیں۔