انوارالعلوم (جلد 21) — Page 338
انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۳۸ دنیا کے معزز ترین انسان محمد یہ وسلم ہیں گی ، کوئی مغرب کی طرف بھاگ جائے گی ، کوئی شمال کی طرف بھاگ جائے گی ، کوئی جنوب کی طرف بھاگ جائے گی اور کوئی ان کے درمیانی کونوں کی طرف بھاگ جائے گی اور اس فائر کے بعد صاف پتہ لگ جائے گا کہ ان کا اتحاد عارضی تھا، اُن کا اکٹھا ہونا ایک اتفاقی امر تھا مگر جب تم مثلاً مرغابی پر فائر کرتے ہو یا مثلاً قاز پر فائر کرتے ہو تو اس وقت ان کے اُٹھتے وقت تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ شاید وہ بھی پراگندہ ہونے لگے ہیں مگر تھوڑی سی پرواز کے بعد تھوڑے سے انتشار اور پراگندگی کے بعد تم دیکھو گے کہ وہ پھر دائیں اور بائیں سے اکٹھے ہو کر دوبارہ ایک جگہ پر آ کر بیٹھ جائیں گے۔مشرقی پنجاب سے بہت سی قومیں ، بہت سے گاؤں نکلے، بہت سے شہر نکلے، بہت سے علاقے نکلے لیکن اُنہوں نے اپنے فعل سے ثابت کر دیا کہ وہ قومی روح اپنے اندر نہیں رکھتے تھے، وہ پرا گندہ ہو گئے ، وہ پھیل گئے ، وہ منتشر ہو گئے یہاں تک کہ بعض جگہ پر بھائی کو بھائی کا، باپ کو بیٹے کا اور ماں کو اپنی لڑکی کا بھی حال معلوم نہیں۔صرف وہ چھوٹی سی قوم ، وہ تھوڑے سے افراد جو دشمن کے تیروں کا ہمیشہ سے نشانہ بنتے چلے آئے ہیں اور جن کے متعلق کہنے والے کہتے تھے کہ دشمن کے حملہ کا ایک ریلا آنے دو پھر دیکھو گے کہ ان کا کیا حشر ہوتا ہے جو نہی حملہ ہوا یہ لوگ متفرق ہو جائیں گے، منتشر اور پراگندہ ہو جائیں گے وہی ہیں جو آج ایک مرکز پر جمع ہیں۔وہ کثیر التعداد آدمی جو وہاں سے نکلے تھے وہ پھیل گئے ، وہ بکھر گئے ، وہ پراگندہ ہو گئے مگر وہ چھوٹی سی جماعت جس کے متعلق کہا جاتا تھا کہ ایک معمولی سا ریلا بھی آیا تو یہ ہمیشہ کے لئے منتشر ہو جائے گی وہ مرغابیوں کی طرح اُٹھی تھوڑی دیر کے لئے ادھر اُدھر اُڑی مگر پھر جمع ہوئی اور ربوہ میں آ کر بیٹھ گئی۔چنانچہ جو نظارہ آج تم دیکھ رہے ہو یہ خواہ اتنا شاندار نہیں جتنا قادیان میں ہوا کرتا تھا کیونکہ ابھی ہماری پریشانی کا زمانہ ختم نہیں ہوا لیکن اور کونسی قوم ہے جس کی حالت تمہارے جیسی ہے۔اور کونسی جماعت ہے جو آج اس طرح پھر جمع ہو کر ایک مقام پر بیٹھ گئی ہے۔یقینا اور کوئی قوم ایسی نہیں۔پس تمہارے اس فعل نے بتادیا کہ تمہارے اندر ایک حد تک قومی روح کی ضرور سرایت کر چکی ہے۔تم اُڑے بھی تم پراگندہ بھی ہوئے ، تم منتشر بھی ہوئے مگر پھر جو تمہاری جبلت ہے، جو تمہاری طینت ہے، جو چیز تمہاری فطرت بن چکی ہے کہ تم ایک قوم بن کر۔