انوارالعلوم (جلد 21) — Page 337
انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۳۷ دنیا کے معزز ترین انسان محمد یہ وسلم ہیں بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ دنیا کے معزز ترین انسان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۲۶ / دسمبر ۱۹۴۹ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد فرمایا:۔”ہماری موجودہ مثال اُن کمزور پرندوں کی سی ہے جو دریا کے کسی خشک حصہ میں ستانے کے لئے بیٹھ جاتے ہیں اور شکاری جو اُن کی تاک میں لگا ہوا ہوتا ہے اُن پر فائز کر دیتا ہے اور وہ کی پرندے وہاں سے اُڑ کر ایک دوسری جگہ پر جا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ہم بھی آرام سے اور اطمینان سے دنیا کی چالا کیوں اور ہوشیاریوں اور فریبوں سے بالکل غافل ہوکر ( کیونکہ مومن چونکہ خود چالاک اور فریبی نہیں ہوتا وہ دوسروں کی چالاکیوں اور فریبوں کا بھی اندازہ نہیں لگا سکتا ) اپنے کی آرام گاہ میں اطمینان اور آرام سے بیٹھے تھے اور ارادہ کر رہے تھے کہ ہم میں سے کوئی اُڑ کر امریکہ جائے گا، کوئی انگلستان جائے گا، کوئی جاپان جائے گا اور دین اسلام کی اشاعت ان جگہوں میں کرے گا لیکن چالاک شکاری اس تاک میں تھا کہ وہ ان غافل اور سادہ لوح پرندوں پر فائر کرے چنانچہ اُس نے فائر کیا اور چاہا کہ وہ ہمیں منتشر کر دے مگر ہماری جماعت جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات میں پرندہ ہی قرار دیا گیا ہے اپنے اندر ایک اجتماعی روح رکھتی تھی۔پرندے دو قسم کے ہوا کرتے ہیں ایک پرندے وہ ہوتے ہیں جو اجتماعی روح اپنے اندر نہیں رکھتے اور ایک پرندے وہ ہوتے ہیں جو اجتماعی روح اپنے اندر رکھتے ہیں۔کبھی کبھی تمہیں چند فاختائیں بھی اکٹھی بیٹھی ہوئی نظر آ جائیں گی ، کبھی کبھی تمہیں چند چڑیاں بھی اکٹھی بیٹھی ہوئی نظر آ جائیں گی مگر جب تم اُن پر فائر کرو گے تو ان میں سے کوئی مشرق کی طرف بھاگ جائے