انوارالعلوم (جلد 21) — Page 332
انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۳۲ الرحمت ہی اخلاقی ذمہ داریوں کو اپنے اوپر حاکم تصور کریں اور اپنے آپ کو اخلاقی حکومت سے بالا خیال نہ کریں۔ہم سمجھتے ہیں کہ سچائی ، دیانت اور عدل کے قوانین کو اگر پوری طرح مد نظر رکھا جائے تو بہت سی مشکلات جو اِس وقت نا قابل حل معلوم ہوتی ہیں آسانی سے حل ہوسکتی ہیں۔ہر قوم کو دوسری قوم کا حق دینا چاہیے اور ایک ملک میں رہنے والی سب قوموں کو آپس میں بھائی بھائی بن کر رہنا چاہیے۔سیاسی اختلافات کی بنیاد ملک کی ترقی پر رکھنی چاہیے نہ کہ قوموں کے اندر اختلاف اور انشقاق پیدا کرنے پر۔ہماری یہ کوشش ہوگی کہ ہم سب سے پہلے جماعت احمدیہ کو اس کے اخلاقی فرائض کی طرف توجہ دلائیں جس میں اُن کے مذہبی پیشواؤں نے ہم سے اتفاق کیا ہے اور اُن کو اپنے پیشواؤں کی سچی پیروی کی ہدایت کریں۔(۳) اس وقت ایک عظیم الشان حادثہ کی وجہ سے مسلمانوں میں انتشار پیدا ہو رہا ہے اور وہ حیران ہیں کہ انہیں کیا کرنا چاہیے؟ اس اثر سے احمدی جماعت بھی آزاد نہیں۔ہمارے نزدیک اس انتشار کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ملک کی تقسیم کے بعد بھی مسلمان ہندوستان میں آزادی سے رہ سکتا ہے اگر وہ عقل سے کام لے۔سیاسی پہلوؤں کو نظر انداز کرتے ہوئے ہم مذہبی اور اخلاقی پہلو جماعت اور دوسرے مسلمانوں کے سامنے رکھتے رہیں گے جن کی روشنی میں وہ ہندوستان کی حکومت کا ایک مفید جزو بن سکیں اور ہندوستان میں امن اور عزت کی زندگی بسر کر سکیں۔ہم ایسی ہی خدمت اُن ہندوؤں اور سکھوں کی بھی کرنے کے لئے تیار رہیں گے جنہوں نے پاکستان میں رہنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے یا جو آئندہ ایسا فیصلہ کریں۔غرض اس پرچہ کی بنیاد مذہب اور اخلاق پر ہوگی اور صلح اور آشتی پر ہوگی۔یہ پرچہ سیاسیات سے الگ رہے گا۔اختلافات کو بڑھائے گا نہیں کم کرنے کی کوشش کرے گا۔جہاں تک عوامی تعلقات کا سوال ہے یہ پاکستان اور ہندوستان کے عوام کے جوش میں آئے ہوئے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرے گا اور ہر غداری کی روح کو خواہ وہ پاکستان میں سر اُٹھائے یا ہندوستان میں سر اُٹھائے دبانے کی کوشش کرے گا بلکہ صرف ہندوستان اور پاکستان میں ہی نہیں دنیا کے ہر گوشہ کے لوگوں کیلئے ” الرحمت رحمت کا نشان بننے کی سعی کرے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس ارادہ میں پورا اترنے کی توفیق دے اور اس رستہ کی مشکلات کا مقابلہ کرنے کی ہمت