انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 326

انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۲۶ الرحمت جو پرچے جس ملک میں گئے لازماً اُن کی ہمدردیاں اُن ممالک سے وابستہ ہوگئیں۔الفضل گو ایک مذہبی پر چہ تھا لیکن کبھی کبھار اس میں نیم سیاسی مضامین بھی شائع ہوتے تھے جن میں اپنی دیرینہ پالیسی کے مطابق پوری احتیاط سے کام لیا جا تا تھا اور خیال رکھا جاتا تھا کہ بین الاقوامی منافرت کی کوئی صورت پیدا نہ ہو لیکن ایک پاکستانی اخبار کے جذبات بہر حال پاکستانی ہی ہو سکتے تھے۔میرے علم میں تو ایسی کوئی بات نہیں مگر ہندوستان کے بعض صوبوں کی حکومتوں نے الفضل کے بعض مضامین کو قابل اعتراض سمجھ کر اس کا داخلہ بند کر دیا اور اب تو ی قریباً سارے ہندوستان میں ہی سوائے دہلی کے اِس کا داخلہ بند ہے۔ہندوستانی حکومت کے کی پاس جب اس کے متعلق احتجاج کیا گیا تو اُنہوں نے جواب میں لکھا کہ مرکزی حکومت نے کی الفضل کے خلاف کوئی قدم نہیں اُٹھایا اور براہ راست اس کے ماتحت علاقوں میں اس کا داخلہ ممنوع قرار نہیں دیا گیا۔باقی رہیں صوبہ جاتی حکومتیں سو وہ اس معاملہ میں آزاد ہیں۔اگر کسی صوبہ جاتی حکومت نے ایسا کیا ہو تو آپ اُس سے براہِ راست احتجاج کریں۔الفضل چونکہ ایک مذہبی پر چہ تھا اس لئے ہندوستان کی جماعتوں کے جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کی گیا کہ اس پر چہ میں سیاسی مضامین کلیتہ ممنوع قرار دیئے جائیں تا کہ کسی غیر گورنمنٹ کو اس پر ی اعتراض کا موقع نہ ملے لیکن یہ تدبیر بھی کارگر نہ ہوئی اور باوجود اس کے کہ الفضل میں سیاسی مضمون چھپنے بند ہو گئے ہندوستان کے مزید صوبوں میں اس کا داخلہ بند کیا جاتا رہا اور جیسا کہ او پر لکھا جا چکا ہے اب قریباً سارے ہندوستان میں اس کا داخلہ بند ہے۔جس طرح ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی تھی کہ الفضل کے کونسے مضامین کی وجہ سے اس کا داخلہ ممنوع قرار دیا جانے لگا ہے اسی طرح ہماری سمجھ میں یہ بات بھی نہیں آئی کہ الفضل میں سیاسی مضامین کے ممنوع ہو جانے کے باوجود اس کا داخلہ مزید صوبوں میں کیوں بند کیا جا تا رہا۔مگر بہر حال یہ حکومت اپنے کی مصالح کو خود مجھتی ہے اور دوسرے لوگوں کی سمجھ میں خواہ وہ مصالح آئیں یا نہ آئیں ان کے لئے احکام حکومت کی پابندی لازمی اور ضروری ہوتی ہے۔خصوصاً جماعت احمدیہ کے لئے جس کے اصول میں یہ بات داخل ہے کہ جس حکومت کے ماتحت رہو اس کے احکام کی فرمانبرداری کرو اس لئے ہم نے مناسب سمجھا کہ بجائے اس کے کہ الفضل کے خلاف جو قدم اُٹھایا گیا ہے