انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 327

انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۲۷ الرحمت س پر پروٹیسٹ کریں اور اُس کے ازالہ کے لئے کوئی جد و جہد کریں ایک نیا اخبار جاری کر دیا جائے جو کلیتہ سیاسیات سے الگ ہوتا کہ ان جماعت ہائے احمدیہ کی تنظیم اور تبلیغ میں کوئی روک پیدا نہ ہو جو ہندوستان میں رہتی ہیں۔اس ارادہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتے ہوئے کہ وہ اس پر چہ کو با برکت بنائے اور اُن مقاصد کی اشاعت میں کامیاب کرے جن کا ذکر ذیل میں کیا جائے گا۔میں الرحمت کو جاری کرتا ہوں۔یہ پر چہ خالص مذہبی پر چہ ہوگا اور جہاں اس کی پالیسی یہ ہوگی کہ یہ انصاف اور عدل کے قوانین کے مطابق مختلف مذاہب کے لوگوں میں عقل اور کی اخلاق کی پیروی کی روح پیدا کرے وہاں اس کی یہ بھی پالیسی ہوگی کہ وہ سیاسیات سے الگ رہتے ہوئے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ایک بہتر فضا پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ہمیں نہایت ہی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کئی ہندوستانیوں نے مسٹر گاندھی کے ان اعلانات کو بھلا دیا ہے کہ ہر ہندو اور سکھ اور غیر مسلم کو جو پاکستان میں رہتا ہے پاکستان کا مخلص اور وفا دار شہری ہو کر رہنا چاہیے اور کئی مسلمانوں نے قائد اعظم کے ان اعلانات کو بھلا دیا ہے کہ ہر مسلمان کو جو ہندوستان میں رہتا ہے ہندوستانی حکومت کا مخلص اور وفا دار شہری ہو کر رہنا۔ان لیڈروں کے منشاء کے خلاف کچھ لوگ ایسے پیدا ہو گئے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ کسی غیر مسلم کو پاکستان میں رہنا ہی نہیں چاہیے۔اور اگر ایسا ہو تو پھر پاکستان میں رہنے والے غیر مسلم کو دل میں پاکستان سے دشمنی رکھنی چاہیے اور ہندوستان میں رہنے والے مسلمان کو دل میں ہندوستان سے دشمنی رکھنی چاہیے۔اگر گاندھی جی اور قائد اعظم کے بیانات نہ بھی ہوتے تب بھی یہ جذبہ اور رُوح نہایت افسوسناک اور مذہب اور اخلاق کے خلاف تھی مگر ان دو زبردست ہستیوں کے اعلانات کے خلاف اس قسم کے جذبے کا پیدا ہونا نہایت ہی تعجب انگیز اور افسوسناک ہے۔ہندوستان کی موجودہ دو علاقوں میں تقسیم بعض مصلحتوں کے ماتحت ہوئی تھی۔ان مصلحتوں سے زیادہ کھینچ تان کر اس مسئلہ کو کوئی اور شکل دینا کسی صورت میں جائز نہیں ہوسکتا۔جب تقسیم اٹل ہو گئی تھی تو میں نے اُسی وقت یہ اعلان کیا تھا کہ اگر یہ تقسیم ہونی ہی ہے تو پھر کوشش کرنی چاہیے کہ دونوں ملکوں کے باشندوں کو ایک دوسرے ملک میں بغیر پاسپورٹ