انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 321

انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۲۱ پاکستان کی ترقی اور اس کے استحکام کے سلسلہ میں زریں نصائح خدایا ! اگر اس میں ستر فیصدی نیک لوگ ہوں تو کیا صرف تیس فیصدی کی خاطر تو ستر فیصدی لوگوں کو تباہ کر دے گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا بالکل نہیں اگر ستر فیصدی نیک لوگ موجود ہوں تب بھی میں اس بستی کو ہلاک نہیں کروں گا ۔ غرض اِسی طرح کرتے کرتے بائبل میں لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا خدایا ! اگر اس میں صرف دس فیصدی نیک لوگ موجود ہوں تو کیا ان کی خاطر تو اس بستی کو نہیں بچائے گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے ابراہیم ! اگر اس میں دس فیصدی نیک لوگ ہوں تب بھی میں اس بستی کو ہلاک نہیں کروں گا ۔ آخر حضرت ابراہیم علیہ ال السلام نے کہا خدایا ! دس فیصدی کیا اگر صرف دس نیک آدمی بھی اس بستی میں موجود ہوں تو کیا تو اس بستی پر رحم نہیں فرمائے گا اور اپنا عذاب اس سے نہیں ٹالے گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے ابراہیم ! اگر صرف دس آدمی بھی اس بستی میں سے نیک نکل آئیں تو میں اس بستی کو کبھی تباہ نہیں کروں گا۔ تب حضرت ابران رت ابراہیم علیہ السلام نے سجدہ میں سے سر اٹھا لیا اور سمجھ لیا کہ اب یہ شہر ضرور تباہ ہوگا ہے کیونکہ اس میں دس بھی نیک نہیں ۔ اس طرح اگر ایک مسلمان کہلاتا ہو اس بات کیلئے کوشش نہیں کرتا، اس بات کیلئے جدو جہد نہیں کرتا کہ وہ اسلام پر عمل کرے ۔ اسلامی احکام اپنے اوپر وارد کرے اور اسلام کے غلبہ کیلئے ہر قسم کی کوشش کرے تو کوئی بتائے ہم ایک سکھ ، ایک ہندو اور ایک عیسائی کو کیا منہ دکھا سکتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے سامنے ہم کونسا منہ لے کر جائیں گے ۔ باتیں تو میں نے اور بھی نوٹ کی ہوئی تھیں مگر وقت ختم ہو گیا ہے اس لئے میں اسی پر اپنی تقریر کو ختم کرتا ہوں کہ جب بھی کوئی کام کیجئے سوچئے اور سوچ کر دیکھئے کہ آپ نے جو کام کیا ہے اس کا مطلب کیا ہے محض نعرے لگا لینا کسی قوم کی کامیابی کی علامت نہیں ہوتی ۔ اگر اس وقت سارے لوگ نعرہ تکبیر بلند کرنے لگ جائیں ، اگر اس وقت سارے لوگ یہ کہنے لگ جائیں کہ پاکستان زندہ باد ہندوستان مردہ باد تو اس سے ہندوستان کی ایک چوہیا بھی نہیں مرے گی لیکن اگر سب لوگ ان باتوں پر عمل کرنے لگ جائیں جن کا ابھی میں نے ذکر کیا ہے، تا جر ٹیکس دینے لگ جائیں ، عوام الناس بغیر ٹکٹ کے ریل کا سفر نہ کریں ، نو جوان بیہودہ باتوں میں اپنا وقت ضائع کرنے کی بجائے تعلیم میں ترقی کریں اور جو مضبوط نوجوان ہیں وہ فوجوں میں بھرتی ہوں ، افسر رشوت خوری کی عادت کو ترک کر دیں اور تمام کام دیانتداری اور محنت کے