انوارالعلوم (جلد 21) — Page 314
انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۱۴ پاکستان کی ترقی اور اس کے استحکام کے سلسلہ میں زریں نصائح میں پیش کیا۔بادشاہ نے حکم دیا کہ اُسے قتل کر دو مگر جب وہ اُسے قتل کرنے کیلئے گردن پر تلوار مارتے تو ذرا بھی اثر نہ ہوتا اور قتل ہونا تو کیا معمولی زخم بھی نہ لگتا۔وہ بڑے حیران ہوئے کہ یہ بات کیا ہے؟ اُنہوں نے زور زور سے تلوار میں ماریں مگر وہ قتل نہ ہو سکا نہ اُسے کوئی زخم آیا۔آخر اسے بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا کہ ہم تو اسے قتل کرتے ہیں مگر یقتل نہیں ہوتا۔بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے آگ میں جلا دیا جائے۔اُنہوں نے لکڑیوں کا انبار جمع کیا اور آگ لگا کر اُس میں اسے پھینک دیا مگر وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص آگ میں یوں کھیلنے لگ گیا ہے جیسے کوئی باغ میں کھیلتا ہے۔وہ پھر بادشاہ کے پاس گئے کہ یہ قصہ ہوا ہے۔بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے پہاڑ کی چوٹی پر سے گرا دیا جائے۔اُنہوں نے پہاڑ کی چوٹی پر سے اسے گرایا تو وہ یوں نیچے آ کر کھڑا ہو گیا جیسے کسی نے نہایت آرام سے اُسے اپنے کندھوں پر اٹھا کر نیچے لا رکھا ہو۔اس پر وہ پھر بادشاہ کے پاس گئے کہ ہم تو عجیب مصیبت میں پھنس گئے ہیں یہ کسی طرح مرنے میں ہی نہیں آتا۔بادشاہ نے حکم دیا کہ اس کے گلے میں ایک بڑا سا پتھر باندھ کر سمندر میں غرق کر دو۔اُنہوں نے اس کے گلے میں ایک بڑا سا پتھر باندھا اور سمندر میں ڈبونا چاہا مگر وہ ڈوبنے کی بجائے کارک کی طرح پانی پر تیرنے لگ گیا۔اس پر وہ پھر بادشاہ کے پاس آئے اور کہنے لگے حضور ! ہم نے اسے قتل کیا مگر یہ قتل نہ ہوا، ہم نے اسے آگ میں ڈالا مگر یہ آگ میں نہ جلا ، ہم نے اسے پہاڑ سے گرایا مگر یہ آرام سے نیچے آ کر کھڑا ہو گیا، ہم نے اسے سمندر میں ڈبویا مگر یہ تیر نے لگ گیا۔بادشاہ نے کہا اُسے میرے پاس لے آؤ وہ کوئی بہت بڑا بزرگ معلوم ہوتا تھ ہے۔جب وہ آیا تو بادشاہ اس کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا مجھے معاف کیجئے مجھ سے سخت غلطی ہوئی میں آپ کو چور اور ڈاکو سمجھتارہا مگر آپ تو بڑے ولی اللہ اور بزرگ ہیں۔اُس نے کہا بادشاہ سلامت! میں ہوں تو چور ہی۔بادشاہ کہنے لگا تو بہ تو بہ یہ آپ کیا فرماتے ہیں آپ چور ہو سکتے ہیں آپ تو اتنے بزرگ ہیں کہ پہاڑ سے آپ کو گرا ئیں تو فرشتے اُٹھا لیتے ہیں ، آگ میں گرائیں تو وہ گلزار بن جاتی ہے، تلوار چلائیں تو زخم نہیں آتا ،سمندر میں ڈبوئیں تو تیرنے لگتے ہیں۔اُس نے کہا حضور ! یہ سب صحیح ہے مگر میں ہوں چور ہی۔بادشاہ نے پوچھا تو پھر بات کیا ہے کہ آپ پر کچھ بھی اثر نہیں ہوتا؟ اس نے کہا بات یہ ہے کہ میں دعائے گنج العرش