انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 285

انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۸۵ اسلامی شعار اختیار کرنے میں ہی تمہاری کامیابی ہے رہی ہے۔وہ بڑا حیران ہوا پانچ سات دن کے بعد اُس کی باتوں سے تنگ آکر مولوی نے اُسے۔وہ طلاق دے دی اور لاہور سے بھاگ کر لکھنؤ چلا گیا۔وہاں تین چار سال تک رہا۔ایک دن وہ گھر آیا تو دیکھا کہ پھر اُس کی پاگل بیوی اندر بیٹھی روٹیاں پکا رہی ہے۔مولوی نے کہا تم یہاں کیسے آ گئی ہو میں تو تمہیں طلاق دے آیا تھا۔وہ کہنے لگی جب تک ہم دونوں کی منظوری نہ ہو طلاق کیسے ہو سکتی ہے میں نے منظوری دی نہیں طلاق کیسے ہو سکتی ہے۔آخر وہ تنگ آ کر ہندوستان سے ہی باہر چلا گیا۔اسی طرح جب مومن دیکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی بات سنی نہیں جاتی تو وہ پاگل ہو جاتا ہے اور آخر دنیا اُس کی بات سنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔غرض یہی ایک طریق کی ہے جسے اختیار کر کے تم کامیاب ہو سکتے ہو۔جب تک تم پاگلوں والا طریق اختیار نہیں کرتے کی اپنے مقصد میں ہرگز کامیاب نہیں ہو سکتے۔تم یہ تو سوچتے ہو کہ اگر ہم نے چندہ دے دیا تو مال میں کمی آجائے گی تم میں سے نصف کے قریب نادہندہ ہیں ، پھر کئی ایسے ہیں جن کے باپ چندہ ادا نہیں کرتے اور کئی کے ہمسائے چندہ ادا نہیں کرتے۔کسی چندہ دینے والے نے کبھی نادہند سے یہ نہیں پوچھا کہ تم چندہ کیوں نہیں دیتے ؟ تمہارے کوئی شخص پانچ روپے نہ دے تو شور مچای دیتے ہومگر خدا تعالیٰ کے اگر کوئی پانچ ہزار روپے بھی نہیں دیتا تو تمہیں اس کی کچھ پرواہ نہیں تم کہہ دیتے ہو کہ خدا تعالیٰ اس کا خود ذمہ دار ہے لیکن اپنے روپے کے بارہ میں تم خود ذمہ دار بن جاتے ہو۔نو جوانوں میں ہمت ہوتی ہے اس لئے ان کا زیادہ فرض ہے کہ وہ خود بھی چندہ دیں کی اور دوسروں کو بھی چندہ دینے پر مجبور کریں۔اگر تمہارا باپ ناد ہند ہے تو کم از کم تم یہ تو کہہ سکتے ہی ہو آپ میرے باپ ہیں اور میں آپ کی عزت کرتا ہوں لیکن یہ کتنا ذلیل کام ہے جو آپ کرتے کی ہیں۔میں صرف خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت آپ کی عزت کرتا ہوں ورنہ جو کام آپ کرتے ہیں وہ ایسا نہیں کہ آپ کی عزت کی جائے۔تمہارے اندراگر جرأت ہو اور تم عقل سے کام لو تو تم یہ کام کر سکتے ہو۔صرف جنون کی ضرورت ہے اور جنون ہی تمہیں کامیاب کرے گا۔جن لوگوں میں جنون ہوگا وہ دوسروں کو مجبور کر دیں گے کہ اُن کی بات سنیں ، اُن کی بات مانیں اور ی اُس پر غور کریں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مومن کو چاہیے کہ اگر وہ بُرائی دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روکے، اگر ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہیں رکھتا تو زبان سے روکے اور