انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 264 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 264

انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۶۴ خدام الاحمدیہ کے قیام سے وابستہ توقعات پہلے جو یو نائیٹیڈ انڈیا تھا وہ مراد ہے یعنی سارا ہندوستان جس میں پاکستان بھی شامل ہے اپنے رقبہ کے لحاظ سے روس سے چھٹے حصہ سے بھی کم ہے لیکن ہماری آبادی روس سے دگنی ہے۔گویا روس نے اگر ایک ایکڑ زمین کسی کو دی ہوئی ہے تو ابھی گیارہ ایکڑ زمین اُس کے پاس باقی ہے جس میں نئی نسلیں آسانی سے گزارہ کر سکتی ہیں اور اس طرح وہ اپنا قانون دس نسلوں تک قائم رکھ سکتا ہے لیکن ہماری تو اگلی نسل ہی باغی ہو جائے گی اور ملک کا امن برباد ہو جائے گا۔یہ بھی وہی نظریہ ہے جو رشیا سے آیا اور مسلمانوں نے اسے اپنا نا شروع کر دیا۔انہوں نے سمجھا کہ جب رشیا میں اس قسم کا قانون ہے تو ہم بھی اُس کے پیچھے کیوں نہ چلیں۔از ریکارڈ خلافت لائبریری ربوہ ) ( آخر میں حضور نے مسلم لیگ کی اس تجویز کے متعلق فرمایا جو زمینداری سسٹم کو اُڑا دینے کے لیے پیش کی جا رہی ہے اور اس کی مخالفت کرتے ہوئے حضور نے اس کے نقصانات کی وضاحت فرمائی اور فرمایا کہ ) مسلمان اس قانون میں روس کی نقل کر رہے ہیں جو نقصان رساں ہوگا“۔آخر میں حضور نے فرمایا: تمام خرابی اور تباہی کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان قرآن کریم پر صرف اسی طور پر ایمان رکھتے ہیں ایمان ان کے عمل میں نہیں۔ورنہ وہ سمجھتے کہ تمام برکت قرآن کریم پر عمل کرنے میں ہے کی اور اگر ہم ذرا بھی اس کے احکام سے اِدھر اُدھر ہوئے تو ہمیں بھی نقصان پہنچے گا اور ہماری کی آئندہ نسلیں بھی تباہ ہو جائیں گی“۔(الفضل ۳۱ اگست ۱۹۴۹ء ) المائدة: ۴۹ تا ۵۲ البقرة: ۱۸۴ المائدة: ۴ العنكبوت: ٤٦ يَسْلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِةِ المَيْسِرِ، قُلْ فِيهِمَا إِثْمَ كَبِيرُ وَمَنَافِعُ للنَّاسِ وَإثْمُهُمَا اكْبَرُ مِن نفْعِهِمَا، (البقرة:٢٢٠)