انوارالعلوم (جلد 21) — Page 257
انوار العلوم جلد ۲۱ اسلام اور موجودہ مغربی نظر ضروری ہوں یا جو عارضی مشکلات کو دور کرنے کے لئے ہوں لیکن جہاں تک وہ امور ہیں جن میں مذہب کو اس بات کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے کہ وہ ہدایت کرے ان تمام امور کو قرآن کریم میں بیان کر دیا گیا ہے کسی کو بالتفصیل اور کسی کو پالا جمال۔دوم فرماتا ہے ان متُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي دین کو کامل کرنے کے نتیجہ میں میں نے اپنا انعام تم پر مکمل کر دیا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے سارے احکام کوئی نہ کوئی خوبی اور حکمت اپنے اندر رکھتے ہیں۔اس کے احکام صرف حکم کے طور پر نہیں بلکہ ان میں انسانی کی فائدہ اور اس کی ترقی کو محوظ رکھا گیا ہے اگر یہ معنی نہ لئے جائیں تو اکمال دین کا نتیجہ اتمام نعمت نہیں ہوسکتا۔یہ نتیجہ بھی پیدا ہو سکتا ہے جب دین کے تمام احکام ہمارے لئے نعمت ہوں تب ہم کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ ہمارا دین مکمل ہے اور چونکہ اس کا ہر حکم ہمارے فائدہ کے لئے ہے اس لئے دین کے مکمل ہونے کے ساتھ انعام بھی مکمل ہو گیا ہے۔یہ اسلامی شریعت کی ایک ایسی خصوصیت ہے جو اسے تمام شریعتوں سے ممتاز کرتی ہے۔باقی شریعتوں کے احکام کسی حکمت اور فلسفہ کے ماتحت نہیں مگر اسلام کسی بات کا حکم نہیں دیتا اور کسی بات سے بنی نوع انسان کو نہیں روکتا لیکن اُسی صورت میں جب اُس پر عمل یا اُس سے اجتناب لوگوں کے لئے مفید ہو۔اس ضمن میں حضور نے نماز کی حقیقت کو تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا اور بتایا کہ ) جو شخص سچے دل سے نماز پڑھتا ہے وہ اِنَّ الصَّلوة تنعى عَنِ الْفَحْشَاء وَالْمُنكَرِ ے کے مطابق ہر قسم کی بُرائیوں سے بچ جاتا ہے۔اسی طرح روزہ ہے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو صرف روزہ رکھنے کا حکم نہیں دیا بلکہ ساتھ ہی کی فرمایا ہے کہ لعلكم تتقون کے روزے اس لئے رکھے گئے ہیں تا تم میں تقویٰ پیدا ہو۔غرض ی اليَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَاتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کی کوئی ضرورت ایسی نہیں جس کو پورا کرنے کا سامان انہیں باہر سے لانا پڑے سارے احکام قرآن کریم میں بیان کر دئیے گئے ہیں اور وہ سارے احکام ایسے ہیں جو بنی نوع انسان کے فائدے کے لئے ہیں۔پس کبھی ایسا نہیں ہوسکتا کہ مسلمانوں کو کوئی ضرورت ہو اور اُس کو پورا کرنے کا سامان انہیں باہر سے لانا پڑے۔اور کبھی ایسا نہیں ہوسکتا کہ مسلمان