انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 236

انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۳۶ با قاعدگی سے نمازیں پڑھنے ، اس کے اثرات پر غور۔۔۔ہے۔کام کرنے والے لوگ تو وقت پر آ جاتے ہیں مگر گھنٹہ بھر انہیں انتظار کرنا پڑتا ہے اس طرح اُن کا دوسروں سے زیادہ وقت ضائع ہوتا ہے حالانکہ چاہیے یہ تھا کہ جتنا کوئی شخص زیادہ سمجھ دار ہو اُس کا وقت ضائع نہ ہو اور جو لوگ پہلے ہی ست ہیں اُن کا وقت ضائع ہو جائے تو کوئی حرج بھی نہیں۔اگر وقت کی پابندی کا خیال نہ رکھا جائے تو جو کام کرنے والے ہیں اور سلسلہ کے لئے زیادہ مفید ہیں وہ تو وقت پر آ جاتے ہیں مگر اُن کا گھنٹہ بھر وقت انتظار میں خرچ ہو جاتا ہے اور پھر گھنٹہ بھر کام میں خرچ ہوتا ہے، پھر اُس کام کو ختم کرنے میں بھی کچھ وقت ضرور صرف ہوتا ہے جس کی وجہ سے اُن کا وقت دوسروں سے زیادہ ضائع ہوتا ہے۔اٹلی کا مشہور لیڈر مسولینی لے جو پچھلی جنگ میں مارا گیا جب برسراقتدار آیا اُس وقت اٹلی کا کی ملک پیچھے رہ جانے والے ملکوں میں شمار ہوتا تھا۔بڑی حکومتوں میں اُس کا شمار نہیں تھا ملک کی صنعت و حرفت ناقص تھی ، تجارت میں وہ دوسرے یوروپین ممالک سے پیچھے تھا، اُس کی زراعت میں کوئی ترقی نہیں پائی جاتی تھی ، یہ شخص ایک معمولی مستری کا لڑکا تھا اور شروع شروع کی میں اُس نے خود بھی مستری کا کام کیا۔وہ سیاسیات میں داخل ہوا اور اُس نے ایک پارٹی بنائی جس کی مدد سے وہ حاکم بن گیا۔گو وہ ہمیشہ ہی وزیر اعظم کہلایا مگر حقیقتا وہ بادشاہ تھا۔اس نے اپنے ملک کی اتنی ہی مرض پہچانی کہ لوگ وقت کی پابندی نہیں کرتے۔اُس نے حکم دے دیا کہ تمام لوگ وقت کی پابندی کیا کریں۔اگر کوئی کارکن ایک منٹ بھی دفتر میں لیٹ آیا تو اُسے سزا دی جائے گی ، اُس کا درجہ گرادیا جائے گا یا اُسے معطل کر دیا جائے گا۔یہ معمولی سی بات تھی لیکن کی میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ اُس نے مُلک کی کایا پلٹ کر رکھ دی اور اس چھوٹی سی کی اصلاح یعنی پابندی وقت کی وجہ سے ملک کا تمام نظام درست ہو گیا۔مجھے اُس کی پابندی وقت کا خود بھی تجربہ ہے۔۱۹۲۴ ء میں ایک مذہبی کام کے لئے میں انگلینڈ گیا، راستہ میں اٹلی میں بھی ٹھہرنے کا موقع ملا۔مسولینی کو برسر اقتدار آئے ابھی تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا۔میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ اُس سے بھی ملاقات کروں اور دیکھوں کہ وہ کس قسم کا آدمی ہے۔اُن کی دنوں سوشلسٹ پارٹی کا ایک مشہور لیڈر مسولینی کی پارٹی سے مارا گیا تھا۔مسولینی کی پارٹی یہ کہتی تھی کہ وہ ڈر کر بھاگ گیا ہے لیکن دوسری پارٹی یہ کہتی تھی کہ وہ ڈر کر بھا گا نہیں بلکہ اُسے مارا گیا