انوارالعلوم (جلد 21) — Page 237
انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۳۷ با قاعدگی سے نمازیں پڑھنے ، اس کے اثرات پر غور۔۔۔ہے۔مہینوں سے دونوں پارٹیوں کے درمیان یہ جھگڑا چلا آ رہا تھا۔جس دن ہم وہاں پہنچے اُس سوشلسٹ کی لاش ایک قلعہ کی دیوار میں یا ایک مکان میں گڑی ہوئی ملی۔قتل کرنے والوں نے دیوار کھود کر لاش اُس میں رکھ دی تھی۔مسولینی اور اُس کی پارٹی کہہ رہی تھی کہ وہ لیڈر ڈر کر بھاگ گیا ہے اس لئے لاش کے ایک دیوار یا مکان میں سے ملنے پر مخالف پارٹی کو یقین ہو گیا کہ مسولینی کی پارٹی نے ہی اُسے مارا ہے۔اگر اُنہوں نے مارا نہ ہوتا تو انہیں چھپانے کی ضرورت ہی کیا تھی۔اس حادثہ کی وجہ سے مسولینی کی نئی نئی قائم شدہ حکومت میں ایک زلزلہ آیا ہے اور یہ خیال کیا جاتا تھا کہ وہ جلد ٹوٹ جائے گی۔میں نے جب انگریز سفیر برائے اٹلی کو کہلا بھیجاج کہ وہ مسولینی سے میری ملاقات کا انتظام کرا دے تو اُس نے جواب میں یہ پیغام بھیجا کہ میں نے بعض اہم سرکاری کاموں کے لئے مسولینی کو ملاقات کا پیغام بھیجا تھا مگر وہ اس نئے حادثہ کی وجہ سے اس قدر پریشان ہے کہ اس کے لئے وقت نہ نکال سکا۔جب وہ سرکاری کاموں کے لئے وقت نہیں نکال سکا تو وہ دوسرے کاموں کے لئے کس طرح وقت نکال سکے گا۔میں نے انگریزی سفیر کو کہلا بھیجا کہ وہ کوشش کرے اور اگر وقت مل جائے تو بہتر ہے۔اُس کے کام اور میرے کام میں فرق ہے میں تو تھوڑے عرصہ کے لئے اس ملک میں آیا ہوں اور جلد چلا جاؤں گا لیکن وہ تو وہاں ہی رہے گا اور پھر کسی وقت وہ ملاقات کر سکتا ہے۔شاید مسولینی اس نقطہ نگاہ سے ہی اس معاملہ پر غور کر لے اور ملاقات کا موقع دے دے۔انگریزی سفیر نے کہا بہت اچھا کی میں لکھتا ہوں۔چنانچہ اُس نے مسولینی کولکھا کہ ہمارے ہندوستان کے ایک مشہور مذہبی لیڈر یہاں آئے ہوئے ہیں اور وہ آپ کو ملنا چاہتے ہیں۔دو تین گھنٹہ کے بعد اُس کا جواب آ گیا کہ مجھے اُن سے مل کر بہت خوشی ہوگی ، وہ مجھے کل گیارہ بجے ملیں۔مسولینی کا یہ طریق تھا کہ وہ صبح کی آٹھ بجے دفتر میں آجاتا اور بارہ بجے تک دفتر میں کام کرتا، پھر دو بجے بعد دو پہر دفتر آتا اور شام تک کام کرتا۔اُس دن اُس نے حکم دے دیا کہ وہ گیارہ بجے کے بعد کوئی کام نہیں کرے گا لیکن عجیب بات یہ ہوئی کہ میرے پرائیویٹ سیکرٹری کو یہ بات بھول گئی کہ اُنہوں نے وہاں جانے کے لئے انتظام کرنا ہے۔دوسرے دن گیارہ بجنے میں پانچ منٹ باقی تھے کہ انہیں یاد آیا۔وہ جلدی سے ہوٹل سے باہر آئے اور ایک موٹر کرایہ پر لے لی۔میں نے اُن پر خفگی کا