انوارالعلوم (جلد 21) — Page 202
انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۰۲ قادیان سے ہجرت اور نئے مرکز کی تعمیر بات ہے۔اگر ہم اس دنیا میں رہیں گے تو ہمیں دوسرے علوم بھی سیکھنے پڑیں گے اور اگر ہم نے دوسرے علوم سیکھے ہوئے ہوں گے تو کسی سے مغلوب نہیں ہوں گے۔ہاں روحانیت کی چاشنی ضرور ساتھ ہونی چاہیے۔اگر ہم دوسرے علوم حاصل نہ کریں تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہمیں بعض سچائیوں کو بھی نظر انداز کرنا پڑے گا۔ہر شخص کو اپنے علم پر گھمنڈ ہوتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ جس کو یہ علم نہیں آتا وہ کچھ بھی نہیں۔میں پرائمری فیل ہوں لیکن دوسرے علوم کا مطالعہ کرتا رہتا ہوں۔قرآن کریم کا مطالعہ کرتا رہتا ہوں اور قرآنی علوم کا فیضان جو خدا تعالیٰ نے مجھے بخشا ہے وہ ہر ایک کو حاصل نہیں۔قرآن کریم کے ذریعہ ہی میں نے سب علوم حاصل کئے ہیں لیکن پھر بھی میں دوسری کتب کا مطالعہ کرتا رہتا ہوں اور وہ لوگ جو اُن علوم کے ماہر ہیں وہ بھی میرے قائل ہی ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔مجھے یاد ہے جب اُم طاہر بیمار تھیں میں اُن کے علاج کے سلسلہ میں لا ہور گیا ہوا تھا اور ہم شیخ بشیر احمد صاحب کے گھر ٹھہرے ہوئے تھے کہ ایک پارسی لڑکی جوایم اے کی تیاری کر رہی تھی وہ مجھے ملنے کے لئے آ گئی۔شیخ صاحب کے گھر ایک لڑکی پڑھانے کے لئے آیا کرتی تھی اُس کی کے ساتھ وہ لڑکی بھی آگئی۔وہ ایم اے فلاسفی میں پڑھتی تھی۔اُس نے سنا کہ میں لاہور آیا ہوں تو وہ ملنے کے لئے آ گئی۔وہ میرے پاس آئی اور پوچھنے لگی احمدیت کیا ہوتی ہے؟ اسی دوران میں اُس نے مجھے بتایا کہ میں ایم۔اے فلاسفی میں پڑھتی ہوں اور ہمارے قاضی محمد اسلم صاحب کا نام لیا کہ اُن سے پڑھتی ہوں وہ بہت اچھے آدمی ہیں۔اُس نے مجھ سے باتیں کیں اور سمجھا کی کہ میں اُس کی وہ باتیں نہیں سمجھتا لیکن جب میں نے اُس پر جرح کی تب وہ بیدار ہوئی اور اُس کی نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کیا پڑھے ہوئے ہیں؟ میں نے کہا میں پرائمری فیل ہوں۔اُس نے کی کہا اچھا! آپ پرائمری فیل ہیں! اور پھر گفتگو شروع کی۔میں نے پھر اُس پر جرح کی تو وہ کہنے لگی کیا آپ نے ایم۔اے فلاسفی پاس کیا ہوا ہے؟ میں نے کہا میں نے اب تک یہ نہیں سنا کہ پرائمری فیل ایم۔اے فلاسفی پاس ہوتا ہے۔اُس نے پھر گفتگو شروع کی اور جب بہت مجبور ہو گئی تو کہنے لگی۔کیا آپ نے امریکہ یا انگلستان میں تعلیم حاصل کی ہے؟ میں نے کہا میں تو پرائمری فیل ہوں۔وہ پھر تنگ ہوئی تو کہنے لگی کیا آپ وکیل ہیں؟ میں نے کہا میں تو وکیل نہیں