انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 201

انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۰۱ قادیان سے ہجرت اور نئے مرکز کی تعمیر اشاعت اسلام چونکہ مقدم تھی اور مکہ میں رہنے سے اس کی اشاعت کا کام باطل ہو جا تا تھا اس لئے آپ نے مکہ چھوڑ نا قبول کر لیا۔میں نے بھی اسی سنت کے ماتحت قادیان کو چھوڑا اور اب واقعات نے تصدیق کر دی ہے کہ میں اس میں حق بجانب تھا۔غرض دین کی اشاعت چونکہ سب سے اہم تھی اس لئے میں نے قادیان چھوڑ نا قبول کر لیا اور پاکستان آ گیا۔“ ( الفضل ۱۸ / جولائی ۱۹۶۱ ء ) میں جماعت کے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ میرے نزدیک اب وقت آ گیا ہے کہ ہم دماغی ترقی کی طرف خاص طور پر توجہ دیں۔اس وقت تک جو کتا ہیں ہماری جماعت کی طرف سے شائع ہوئی ہیں وہ کسی تنظیم کے بغیر شائع ہوئی ہیں سوائے تفسیر کبیر کے۔لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ جماعت کا ہر فرد وقتی ضرورتوں کے ماتحت ایک خاص پروگرام کے ماتحت چلے اور اس طرح ترقی کرنے کی کوشش کرے۔اس لئے میں نے سمجھا کہ میں نیا مرکز بن جانے کے بعد ایک خاص نظام قائم کروں تا جماعت کے افراد کی خاص طور پر تربیت ہو اور اخلاق ، عقائد ، مذہب اور دیگر دنیوی علوم پر ہر آدمی آسانی کے ساتھ عبور حاصل کر سکے۔اور اس کا یہی طریق ہے کہ آسان اُردو میں ایسی کتابیں شائع کی جائیں جو ہر مضمون کے متعلق ہوں اور علمی مطالب پر حاوی ہوں اور ایسی سیدھی سادی زبان میں ہوں کہ معمولی زمیندار بھی انہیں سمجھ سکیں۔بہت سے علم ایسے ہیں جن سے لوگ ڈرتے ہیں اس لئے وہ اُن کو سیکھنے کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ایک فلاسفر نے ایک کتاب لکھی ہے جس میں اُس نے بتایا ہے کہ علوم کیا ہیں۔اُس نے تمام علوم پر جرح کر کے اور انہیں اصطلاحوں سے خالی کر کے پیش کیا ہے۔اُس نے فلسفہ پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ فلسفہ کیا ہے۔فلسفہ گتے کی عمارتیں بنانا، عمارتیں بنا کر ان پر ہاتھ مارنا اور پھر ان کو گرا دینا ہے۔غرض بہت سے علوم ایسے ہوتے ہیں جن کو لوگ ناواقفیت کی وجہ سے نہیں سیکھتے اور ان سے ڈرتے ہیں۔اگر سب لوگ انہیں جانتے تو صرف یہی نہ ہوتا کہ بحث میں دوسروں کا ان پر اثر ہوتا بلکہ وہ دوسروں پر غالب آ جاتے۔بعض لوگ خیال کیا کرتے ہیں کہ ہمیں دنیوی علوم کی کیا ضرورت ہے؟ مگر یہ حماقت کی