انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 200

انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۰۰ قادیان سے ہجرت اور نئے مرکز کی تعمیر " نے دیکھا کہ ہمارے لئے ہجرت مقدر ہے تو میں نے قادیان کو چھوڑ کر یہاں چلے آنے کا فیصلہ کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ الہام موجود تھا کہ ” داغِ ہجرت کے اور ادھر میری خوابوں میں بھی یہ بات تھی کہ ہمیں قادیان سے باہر جانا پڑے گا۔میں نے دیکھا کہ یہ الہام تو موجود ہے مگر ابھی تک ہجرت نہیں ہوئی اس لئے یا تو یہ مثیل مسیح پر پیشگوئی صادق آئے گی اور یا اسے جھوٹا مانا پڑے گا۔یہی وہ چیزیں تھیں جن کی وجہ سے ہمیں قادیان کو چھوڑ نا پڑا۔پھر یہ فیصلہ میں نے خود نہیں کیا بلکہ جماعت کے دوستوں کی طرف سے مجھے یہ مشورہ دیا گیا کہ میں قادیان سے باہر آ جاؤں۔ویسے میری ذاتی دلچسپیاں تو قادیان سے ہی وابستہ تھیں لیکن کی میرے سامنے دو چیزیں تھیں اول یہ کہ میں قادیان سے باہر چلا جاؤں اور قادیان میں ایک نائب امیر مقرر کر دوں۔دوم یہ کہ میں اُن سب کاموں کو ترک کر دوں جو میرے سپرد کئے گئے ہیں اور قادیان میں ایک قیدی کی حیثیت سے بیٹھا رہوں۔اور اس بات کے حق میں کہ میں قادیان میں ہی بیٹھا رہوں ایک رائے بھی نہیں تھی۔۷ ستمبر کو یہ فیصلہ ہوا کہ چونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ اسلام کی اشاعت کا کام قادیان سے باہر آنے پر ہی ہو سکتا ہے اس لئے ہم جذباتی چیز کو حقیقت کی پر قربان کریں گے۔پس میں نے ضروری سمجھا کہ آج میں دوستوں کو بتاؤں کہ ہم نے واقعات کو سامنے رکھ کر یہ فیصلہ کیا ہے اور ہما را قادیان سے باہر آنا ان حالات میں ہوا ہے۔اگر سقراط کے طریق پر عمل کرتے اور قادیان میں ہی رہتے تو یہ بات غلط ہوتی کیونکہ ہمارے حالات سقراط کے حالات سے نہیں ملتے تھے۔ہم نے حضرت مسیح علیہ السلام کی مثال پر عمل کیا کیونکہ آپ کے حالات ہمارے حالات سے ملتے تھے۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی جی نہیں کی چاہتا تھا کہ آپ مکہ کو چھوڑیں لیکن جب آپ نے دیکھا کہ اس کے بغیر اُس پیغام کو جو آپ دنیا کی طرف لے کر مبعوث ہوئے تھے نہیں پھیلایا جا سکتا تو آپ مکہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ جب رسول کریم ﷺ غارثور سے نکلے تو آپ نے آب دیدہ ہو کر اور مکہ کی طرف منہ کر کے فرمایا اے مکہ ! تو مجھے بڑا ہی پیارا تھا اور میں تجھے چھوڑ نا نہیں چاہتا تھا ؟ لیکن افسوس تیرے رہنے والوں نے مجھے یہاں رہنے کی اجازت نہیں دی۔یہ فقرہ بتاتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ کو چھوڑ نا نہیں چاہتے تھے۔آپ کو مکہ سے محبت تھی لیکن