انوارالعلوم (جلد 21) — Page 175
انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۷۵ قادیان سے ہجرت اور نئے مرکز کی تعمیر ہو جانے کے بعد احمدیوں نے اُسے سو سو روپیہ فی جلد کے حساب سے خریدا۔ افریقہ میں ایک دوست نے ایک جلد پچاس روپے پر فروخت کر دی اور سمجھا کہ وہ اس قیمت سے ایک اور جلد خرید لیں گے مگر اُس نے جب یہاں لکھا کہ میرے لئے تفسیر کبیر کی وہ جلد پچاس روپے تک خرید لی جائے تو ہم نے اُسے جواب دیا کہ پچاس روپے کو تو کوئی شخص یہ جلد نہیں دیتا ۔ ہاں کوشش کی جائے تو سو روپیہ تک مل سکتی ہے۔ مگر جو جلد آب چھپی ہے اس کی کافی تعداد موجود ہے اور اس کی خریداری کی طرف دوستوں نے توجہ نہیں کی ۔ اب آخری جلد شائع ہو رہی ہے اور دوستوں کے لئے دونوں جلدوں کا اکٹھا خریدنا مشکل ہوگا الگ الگ خرید نے میں آسانی ہوتی کسی قسم کا بوجھ محسوس نہیں ہوتا ۔ الفضل والوں نے مجھ سے یہ درخواست کی تھی کہ میں جلسہ پر ان کے لئے بھی سفارش کروں لیکن جب میں آ رہا تھا تو میں نے سنا کہ وہ الفضل کے متعلق خود اعلان کر رہے ہیں ۔ بہر حال الفضل ایک جماعتی اخبار ہے اور تربیت اور اصلاح وارشاد کے لئے بہت محمد ہے۔ دوستوں کو اس کی ایجنسیاں کھولنی چاہئیں اور اس کی خریداری کو بڑھانا چاہیے۔ ہے اور سب سے بڑی چیز وقف زندگی ہے لیکن میں افسوس سے کہتا ہوں کہ پنجاب کی تقسیم کے بعد جماعت کی توجہ اس طرف سے ہٹ گئی ہے۔ اس کی بڑی وجہ پریشانیاں ہیں ۔ اکثر لوگ تجارتی کاموں میں لگے رہے اور جو انصار تھے وہ بھی مہاجرین کی مدد کے لئے اِدھر اُدھر بھاگتے رہے اور اس طرف کسی نے توجہ نہیں کی لیکن وقف زندگی کے بغیر سلسلہ کے کام نہیں چل سکتے ۔ دوستوں کو چاہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اپنی زندگیاں وقف کریں اور اسلام کو جلد سے جلد تمام دنیا پر غالب کرنے کے سامان بہم پہنچائیں ۔ باوجود اس کے کہ ہمیں ابھی پریشانیاں لاحق ہیں ، باوجود اس کے کہ ہم نے ابھی نیا مرکز بنانا ہے خدا تعالیٰ نے ہماری اشک شوئی کیلئے تبلیغ اسلام کو وسیع کر دیا ہے ۔ چنانچہ گذشتہ سال جرمن میں ایک اچھی جماعت قائم ہوگئی اور ایک درجن کے قریب جرمن احمدیت میں داخل ہوئے ۔ اسی طرح ہالینڈ میں بھی جماعت احمد یہ قائم ہوگئی ۔ جرمن احمد یوں میں سے مسٹر عبدالشکور کنزے کو جو پہلے سے احمدی تھے خدا تعالیٰ نے توفیق دی کہ وہ اسلام کی خدمت کے لئے اپنی زندگی وقف کریں ۔ انہیں دیکھ کر کوئی شخص یہ نہیں سمجھ سکتا کہ وہ