انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 149

انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۴۹ آئندہ وہی قو میں عزت پائیں گی جو مالی و جانی۔ آ جائیں گی مگر وہ سہولیں جسم کی ہوں گی روح کی نہیں ۔ روح کی سہولتیں ہمیشہ خدا تعالیٰ کی راہ میں تکالیف اُٹھانے سے ہی میسر آتی ہیں ۔ انبیاء جب دنیا میں آتے ہیں تو اُن کے ابتدائی ایام میں جو لوگ ایمان لاتے ہیں وہی بڑے سمجھے جاتے ہیں ۔ ہر مسلمان جانتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان ، حضرت علیؓ ، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت سعد اور حضرت سعید وہ لوگ تھے ؟ تھے جو بڑے سمجھے جاتے تھے مگر ان کے بڑے ران کے بڑے سمجھے جانے کی وجہ یہ نہیں تھی کہ ان کو آرام زیادہ میسر آتا تھا بلکہ ان کے بڑے سمجھے جانے کی وجہ یہ تھی کہ دین کی خاطر انہوں نے دوسروں سے زیادہ تکلیفیں برداشت کی تھیں ۔ حضرت طلحہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی زندہ رہے اور جب حضرت عثمان کی شہادت کے بعد مسلمانوں میں اختلاف پیدا ہوا اور ایک گروہ نے کہا کہ حضرت عثمان کے مارنے والوں سے ہمیں بدلہ لینا چاہیے تو اس گروہ کے لیڈر حضرت طلحہ، حضرت زبیر اور حضرت عائشہ تھے۔ لیکن دوسرے گروہ نے کہا کہ مسلمانوں میں تفرقہ پڑ چکا ہے آدمی مرا ہی کرتے ہیں ، سر دست ہمیں تمام مسلمانوں کو اکٹھا کرنا چاہیے تا کہ اسلام کی شوکت اور اس کی عظمت قائم ہو بعد میں ہم ان لوگوں سے بدلہ لے لیں گے اس گروہ کے لیڈر حضرت علی تھے۔ یہ اختلاف اتنا بڑھا کہ حضرت طلحہ ، حضرت زبیر 71 اور حضرت عائشہ نے الزام لگایا کہ علی اُن لوگوں کو پناہ دینا چاہتے ہیں جنہوں نے حضرت عثمان کو شہید کیا ہے۔ اور حضرت علیؓ نے الزام لگایا کہ ان لوگوں کو اپنی ذاتی غرضیں زیادہ مقدم ہیں اسلام کا فائدہ ان کے مد نظر نہیں ۔ گویا اختلاف اپنی انتہائی صورت تک پہنچ گیا اور پھر آپس میں جنگ بھی شروع ہوئی ایسی جنگ جس میں حضرت عائشہ نے لشکر کی کمان کی ۔ آپ اونٹ پر چڑھ کر لوگوں کو لڑواتی تھیں اور حضرت طلحہ اور حضرت زبیر بھی اس لڑائی میں شامل تھے۔ جب دونوں فریق میں جنگ جاری تھی ایک صحابی حضرت طلحہ کے پاس آئے اور اُن سے کہا۔ طلحہ ! تمہیں یاد ہے فلاں موقع پر میں اور تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ طلحہ ! ایک وقت ایسا آئے گا کہ تم اور لشکر میں ہو گے اور علی اور لشکر میں ہوگا اور علی حق پر ہوگا اور تم غلطی پر ہو گے ۔ حضرت طلحہ نے یہ سنا تو اُن کی آنکھیں