انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 138

انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۳۸ ربوہ میں پہلے جلسہ سالانہ کے موقع پر افتتاحی تقریر اس کو ہمیشہ اپنے ذکر اور برکت کی جگہ بنا دے۔ إنك أنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ تو ہماری دردمندانہ دعاؤں کو سننے والا اور ہمارے حالات کو خوب جاننے والا ہے۔ تو اگر فیصلہ کر دے کہ یہ گھر ہمیشہ تیرے ذکر کے لئے مخصوص رہے گا تو اسے کون بدل سکتا ہے۔ وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ اِس آیت سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ بیت اللہ بنانے کے در حقیقت دو حصے ہیں ۔ ایک حصہ بندے سے تعلق رکھتا ہے اور دوسرا حصہ خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتا ہے۔ جس مکان کو ہم بیت اللہ کہتے ہیں وہ اینٹوں سے بنتا ہے، چونے سے بنتا ہے ، گارے سے بنتا ہے اور یہ کام خدا تعالیٰ نہیں کرتا بلکہ انسان کرتا ہے ۔ مگر کیا انسان کے بنانے سے کوئی مکان بیت اللہ بن سکتا ہے؟ انسان تو صرف ڈھانچہ بناتا ہے روح اس میں خدا تعالٰی ڈالتا ہے۔ اسی امر کو مد نظر رکھتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ڈھانچہ تو میں نے اور اسماعیل نے بنا دیا ہے مگر ہمارے بنانے سے کیا بنتا ہے ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنّا، اے خدا! تو ہمارے اس تحفہ کو قبول کر اور اسے اپنے پاس سے مقبولیت عطا فرما ۔ ورنہ محض مسجدیں بنانے سے کیا بنتا ہے۔ کئی مسجدیں ایسی ہیں جو باپ دادوں نے بنائیں اور بیٹوں نے بیچ ڈالیں ، کئی مسجد میں ایسی ہیں جو بادشاہوں یا شہزادوں نے بنائیں مگر آج اُن میں کتے پاخانہ پھرتے ہیں اس لئے کہ انسان نے تو مسجد میں بنائیں مگر خدا نے انہیں قبول نہ کیا ۔ پس حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کہتے ہیں کہ اے خدا ! ہم نے تو تیرا گھر بنایا ہے مگر یہ محض ہمارے بنانے سے قیامت تک قائم نہیں رہ سکتا ، یہ اُس وقت تک رہ سکتا ہے جب تک تو کہے گا اس لئے رَبَّنَا تَقَبلُ مِنا b اے خدا! ہم نے جو گھر بنایا ہے اسے تو قبول فرما اور تو سچ مچ اس میں رہ پڑ۔ اور جب خدا کسی جگہ بس جائے تو وہ کیسے اُجڑ سکتا ہے۔ گاؤں اُجڑ جائیں تو اُجڑ جائیں ، شہر اُجڑ جائیں تو اُجڑ جائیں وہ مقام کبھی نہیں اُجڑ سکتا جس جگہ خدا بس گیا ہو ۔ چنانچہ دیکھ لوسینکڑوں سال تک مکہ بے آباد رہا مگر چونکہ خدا وہاں تھا اس لئے اس کی عزت قائم رہی ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام یہی دعا مانگتے ہوئے فرماتے ہیں رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمين لك اے خدا ! اس گھر کی آبادی تیرے بندوں سے وابستہ ہے مگر محض لوگوں کی آبادی کوئی چیز نہیں اصل چیز یہ ہے کہ اس سے تعلق رکھنے والے نیک ہوں ۔ پس ہم جو بیت اللہ کو بنانے والے ہیں اور جو دو افراد