انوارالعلوم (جلد 21) — Page 124
انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۲۴ ربوہ میں پہلے جلسہ سالانہ کے موقع پر افتتاحی تقریر چاہتے تھے کہ خواب میں اگر کوئی شخص اپنے بچے کو ذبح کرتے ہوئے دیکھتا ہے تو اس کی تعبیر کچھ اور ہوتی ہے۔ہم انسانی قربانی کو روکنا چاہتے تھے اور اسی لئے ہم نے یہ رویا دکھائی تھی۔اس ذریعہ سے تمہارا ایمان بھی ظاہر ہو گیا اور ہماری غرض بھی پوری ہوگئی۔اے ابراہیم ! آج سے انسانی قربانی کو بند کیا جاتا ہے اب آئندہ کسی انسان کو اس رنگ میں قربان کرنا جائز نہیں۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وقت سے انسانی قربانی جو خود کشی یا دوسرے کو قتل کرنے کے رنگ میں جاری تھی رُک گئی۔در حقیقت اس رویا میں یہ بتایا گیا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ایک وادی غیر ذی ذرع میں اپنے بیٹے کو چھوڑ آئیں گے اور اس کی لئے چھوڑ آئیں گے لیقیمُوا الصلوة کے تا کہ وہ خدا تعالیٰ کی عبادت کو قائم کریں۔دوسری کی جگہ یہ ذکر آتا ہے کہ اُن کو بیت اللہ کے پاس اس لئے رکھا گیا تھا تا کہ وہ زائرین اور طواف کرنے والوں اور اعتکاف بیٹھنے والوں اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں کے لئے اُس کے گھر کو آباد رکھیں۔۵ے چنانچہ جب یہ قربانی جاتی رہی تو پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے رؤیا کے ذریعہ بتایا کہ وہ اپنے بیٹے اسماعیل اور اس کی والدہ کو بیت اللہ کی جگہ چھوڑ آئیں۔بخاری میں روایت آتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں یہ حکم ہوا تو انہوں نے اپنا بچہ اُٹھا لیا یا ممکن ہے اُنہوں نے کسی سواری کا بھی انتظام کر لیا ہو۔روایت میں آتا ہے کہ بعض جگہ حضرت ہاجرہ بچے کو اٹھا لیتیں اور بعض جگہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اُسے اُٹھا لیتے اس کی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بیوی اور بچے کو ساتھ لے کر فلسطین سے مکہ کا رُخ کیا۔میرا اندازہ یہ ہے کہ فلسطین سے مکہ کوئی دو ہزار میل کے قریب ہوگا۔سفر کرتے کرتے وہ خانہ کعبہ میں پہنچے۔اُس وقت صرف ایک مشکیزہ پانی کا اور ایک ٹوکری کھجوروں کی ان کے پاس تھی انہوں نے اپنی بیوی اور بچے کو وہاں بٹھایا اور کھجوروں کی ٹوکری اور پانی کا مشکیزہ اُن کے پاس رکھ دیا۔مکہ میں اُس وقت کوئی پانی کا چشمہ یا نہر نہیں تھی، کوئی نالہ بھی پاس سے نہیں گذرتا تھا اور زمین کے لحاظ سے کوئی سرسبزی و شادابی اُس میں نہیں پائی جاتی تھی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کو وہاں رکھا، اپنی بیوی کو چھوڑا اور کہا میں ایک کام کے لئے جا رہا ہوں۔یہ کہہ کر آپ وہاں سے واپس چل پڑے لیکن۸۰ سال کی عمر میں پیدا ہونے والے اکلوتے بچے کی محبت