انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 123

انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۲۳ ربوہ میں پہلے جلسہ سالانہ کے موقع پر افتتاحی تقریر رہو تو کیا تم میری بات مانو گے؟ اُس نے کہا نہیں۔پھر اُنہوں نے کسی اور کا نام لے کر کہا کہ اگر وہ کہے تو پھر بھی مانو گے یا نہیں ؟ اُس نے کہا نہیں۔اس کے بعد اُنہوں نے کسی اور کا نام لیا کہ اگر وہ ایسا کہے تو کیا پھر بھی تم مانو گے یا نہیں؟ اُس نے کہا نہیں۔پھر اُنہوں نے میرا نام لیا اور کہا کہ اگر ابا جان کہیں تو کیا تم جنگل میں چلے جاؤ گے؟ اُس نے پھر کہا نہیں۔آخر انہوں نے کہا۔اگر خدا کہے کہ تم جنگل میں چلے جاؤ تو کیا تم جاؤ گے؟ میں نے دیکھا کہ اس بات کے سنتے ہی اُس کا رنگ زرد ہو گیا مگر اُس نے کہا ہاں پھر میں مان لوں گا۔اب دیکھو پانچ چھ سال کا بچہ نہیں جانتا کہ خدا کیا چیز ہے۔وہ صرف موٹی موٹی باتیں جانتا ہے خدا تعالیٰ کے احکام کی اہمیت کو نہیں سمجھتا مگر چونکہ صبح و شام وہ سنتا رہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی ذات بہت بڑی ہے اور اُس کے احکام کو نہ ماننا کسی انسان کے لئے جائز نہیں ہوسکتا اس لئے اور سب کا نام لینے پر اُس نے انکار کیا یہاں تک کہ باپ کا نام لینے پر بھی اُس نے یہی کہا کہ میں نہیں جاؤں گا مگر جب خدا تعالیٰ کا نام لیا گیا تو اُس نے سمجھا کہ اب انکار نہیں ہوسکتا اور اُس نے کہا کہ اگر خدا کہے تو پھر میں چلا جاؤں گا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی جب اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے کہا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے رویا میں یہ دکھایا ہے کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں اب بتا تیری کیا رائے ہے؟ تو حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اُس نیک تربیت کی وجہ سے جو انہیں حاصل تھی یہ جواب دیا کہ جب خدا نے ایسا کہا ہے تو پھر بے شک اس پر عمل کریں میں اس کے لئے بالکل تیار ہوں۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو جنگل میں لے گئے ، ان کی کی آنکھوں پر پٹی باندھی ، انہیں زمین پر لٹا دیا اور پھر چھری نکال کر چاہا کہ اُس زمانہ کے رسم و رواج کے مطابق اپنے بیٹے کو خدا تعالیٰ کے نام پر ذبح کر دیں مگر خدا تعالیٰ تو یہ بتانا چاہتا تھا کہ کہ انسانی قربانی نا جائز ہے۔چنانچہ جب اُنہوں نے چھری نکالی اور ذبح کرنا چاہا تو فرشتہ نازل ہوا اور اُس نے خدا تعالیٰ کی طرف سے کہا کہ یا بر هيما قد صدقت الرويا - اے ابراہیم ! تم نے عملاً اپنے بچے کو ذبح کرنے کے ارادہ سے لٹا کر اور چھری نکال کر ا۔خواب کو پورا کر دیا ہے مگر ہمارا منشاء یہ نہیں تھا کہ تم واقع میں اسے ذبح کر دو بلکہ ہم یہ بتانا