انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 122 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 122

انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۲۲ ربوہ میں پہلے جلسہ سالانہ کے موقع پر افتتاحی تقریر XXXXXXXX اور دنیا کی مصیبتوں کو برداشت کر کے انسان پیش کر سکتا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کا سب سے بڑا کارنامہ در حقیقت یہی تھا۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے وہ رویا دکھائی جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ وہ اکلوتے بیٹے کو جو یقیناً اسماعیل تھے ذبح کر رہے ہیں تو چونکہ اُس وقت لوگ اپنے بیٹوں کو خدا تعالیٰ کے نام پر ذبح کرتے تھے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سمجھا کہ الہی منشاء یہ ہے کہ میں بھی اپنے بیٹے کو خدا تعالیٰ کے نام پر ذبح کر دوں۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے اسماعیل کو جن کی عمر اُس وقت تاریخ سے سات سال کی معلوم ہوتی ہے بتایا کہ میں نے ایسی ایسی رؤیا دیکھی ہے۔اسماعیل جو اپنے باپ کی نیک تربیت کے ماتحت دین کو سمجھتا تھا اور جس میں یہ حس تھی کہ خدا تعالیٰ کے لئے قربانی کرنی چاہیے اُس نے کی فوراً حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس بات کو قبول کیا کہ خدا تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے آپ اُس پر عمل کریں سے میں اسے حضرت اسماعیل کی ذاتی نیکی نہیں سمجھتا۔جب وہ بڑے ہوئے تو یقیناً وہ نیک ثابت ہوئے اور اُنہوں نے اپنے عمل اور طریق سے خدا تعالیٰ کو اتنا خوش کیا کہ اُس نے انہیں چھ نبوت کے مقام پر فائز کر دیا مگر الصَّبِيُّ صَبِيٌّ وَلَوْ كَانَ نَبِيًّا بچہ بچہ ہی ہے خواہ وہ بعد میں نبی کی ہی کیوں نہ بن جائے۔سات سال کی عمر میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کا یہ نمونہ دکھانا یقیناً حضرت ابراہیم علیہ السلام، اُن کی بیوی اور دوسرے رشتہ داروں کی نیکی کا مظاہرہ تھا حضرت اسماعیل کی ذاتی خوبی نہیں تھا۔مجھے اپنے گھر کا ایک واقعہ یاد ہے۔میرا ایک بچہ جس کی عمر پانچ چھ سال تھی ایک دفعہ نچلی منزل کی سیڑھی پر کھڑا تھا اور میں اوپر تھا۔اُس کے ایک دو بھائی جو بڑی عمر کے تھے وہ اُس کے پاس کھڑے اُسے ڈرا رہے تھے اور میرے کان میں ان کی آوازیں آ رہی تھیں۔مجھے اُن کی باتیں کچھ دلچسپ معلوم ہوئیں اور میں غور سے سننے لگا۔میں نے سُنا اُن میں سے ایک نے اُسے کہا۔اگر تم کو رات کے وقت جنگل میں اکیلے چھوڑ آئیں تو کیا تم اس کے لئے تیار ہو گے؟ میں نے دیکھا کہ اس بات کے سنتے ہی بچے پر دہشت غالب آ گئی۔وہ ڈر گیا اور اس نے کہا نہیں۔اس کے بعد دوسرے نے کہا۔اگر میں تم کو کہوں کہ تم رات کو اکیلے جنگل میں چلے جاؤ اور وہیں