انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 120

انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۲۰ ربوہ میں پہلے جلسہ سالانہ کے موقع پر افتتاحی تقریر اُس کے متعلق دشمن سے دشمن کو بھی اقرار کرنا پڑتا ہے کہ اُس نے اپنے عہد کو سچا ثابت کر دیا میں نے کہا کہ جو شخص اپنی مرضی سے اپنی زندگی کو ختم کرتا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ میں نے اُن لوگوں کو مستی کر دیا ہے جو اپنی مرضی سے اپنی زندگی ختم نہیں کرتے بلکہ خدا تعالیٰ کی مشیت سے اُن کی زندگی ختم ہو جاتی ہے یہ وہ لوگ ہیں جن کو شہداء کہتے ہیں۔پس جو دلیل میں نے تلوار یا نیزہ سے اپنے آپ کو ختم کرنے والوں کے خلاف دی ہے وہ شہداء کے خلاف نہیں پڑتی اس لئے کہ شہداء نے خود اپنے آپ کو مار کر زندگی کی جد و جہد سے آزاد ہونے کی کوشش نہیں کی بلکہ خدا تعالیٰ کی مشیت نے اُن کے زندہ رہنے کی خواہش کے با وجود یہ چاہا کہ اُن کی مادی زندگی کے دور کو ختم کر دے اور ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ان دونوں کی باتوں میں بہت بڑا فرق ہے۔پس جو دلیل میں نے اپنی زندگی ختم کرنے والوں کے خلاف دی ہے وہ شہداء کے خلاف نہیں پڑتی اس لئے کہ وہ خود نہیں مرتے بلکہ ان کو دشمن مارتا ہے ورنہ وہ تو یہی چاہتے ہیں کہ دشمن کو مار کر اپنے ایمانوں کو اور بھی قوی کریں۔اس امر کا ثبوت کہ وہ اپنی زندگی ختم کر کے میدانِ جد و جہد سے بھا گنا نہیں چاہتے ایک حدیث سے بھی ملتا ہے۔حضرت عبد اللہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک نہایت مقرب صحابی تھے جب شہید کی ہو گئے تو اُن کے بیٹے حضرت جابر کو ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت افسرده ای حالت میں سر جھکائے دیکھا۔آپ نے جابڑ سے فرمایا، جابر ! تمہیں اپنے باپ کی موت کا بہت صدمہ معلوم ہوتا ہے۔اُس نے کہا ہاں یا رَسُولَ الله ! باپ بھی بہت نیک تھا جس کی وفات کا کی طبعی طور پر مجھے سخت صدمہ ہے مگر میری افسردگی کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارا خاندان بہت بڑا ہے اور اب اُس کا تمام بار میرے کمزور کندھوں پر آ پڑا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جابر ! اگر تمہیں معلوم ہوتا کہ تمہارے باپ کا کیا حال ہوا تو تم کبھی افسردہ نہ ہوتے بلکہ خوش ہوتے۔پھر آپ نے فرمایا۔جابر ! جب عبداللہ شہید ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے کی فرشتوں سے کہا۔عبداللہ کی روح کو میرے سامنے لاؤ۔جب عبد اللہ کی روح اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کی گئی تو اللہ تعالیٰ نے تمہارے باپ سے فرمایا کہ عبداللہ ! ہم تمہارے کارنامے پر