انوارالعلوم (جلد 21) — Page 104
انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۰۴ اللہ تعالیٰ سے سچا اور حقیقی تعلق قائم کرنے میں ہی ہماری کا مہ ری کامیابی ہے غرض ظاہری سامانوں سے فائدہ اُٹھانا دین کے خلاف نہیں لیکن یہ ضروری ہے کہ ظاہری سامانوں اور تدابیر کو دین کے تابع رکھا جائے۔خدا تعالیٰ کی محبت کو اتنا بڑھایا جائے کہ اسے ہمارے متعلق غیرت پیدا ہو جائے اور ساتھ ہی دنیا وی سامانوں کو بھی جمع کیا جائے تا یہ نہ سمجھا جائے کہ تم خدا تعالیٰ کی بنائی ہوئی چیزوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہو۔جب شام میں جنگ ہوئی اور وہاں طاعون پڑی حضرت عمر وہاں خود تشریف لے گئے تا کہ لوگوں کے مشورہ سے فوج کی حفاظت کا کوئی معقول انتظام کیا جا سکے۔مگر جب بیماری کا حملہ تیز ہو گیا تو صحابہ نے عرض کیا کہ آپ کا یہاں ٹھہر نا مناسب نہیں آپ واپس مدینہ تشریف لے جائیں۔جب آپ نے واپسی کا ارادہ کیا تو حضرت ابو عبیدہ نے کہا فِرَارًا مِنْ قَدْرِ اللهِ؟ کیا اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے آپ بھاگتے ہیں؟ حضرت عمر نے فوراً جواب دیا۔نَعَمُ نَفِرُّ مِنْ قَدْرِ اللهِ إلى قَدْرِ اللہ ہاں ہم خدا تعالیٰ کی ایک تقدیر سے اُس کی دوسری تقدیر کی طرف بھاگتے ہیں۔2 غرض دنیاوی سامانوں کو ترک کرنا جائز نہیں۔ہاں دنیا وی سامانوں کو دین کے تابع رکھنا چاہئے۔صحابہ کے متعلق آتا ہے کہ جن صحابہ کے پاس کچھ نہیں ہوتا تھا وہ سارا دن محنت کرتے تھے اور شام کو مٹھی بھر جو جو وہ حاصل کرتے تھے ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بطور چندہ پیش کر دیتے تھے۔مشرکین مکہ اور منافق لوگ کہا کرتے تھے کہ یہ لوگ یعنی مسلمان ملک کو فتح کی کرنے کے لئے جا رہے ہیں لیکن کیا یہ لوگ مٹھی بھر جو کے ساتھ ملک کو فتح کریں گے؟ وہ مشرک اور منافق یہ نہیں جانتے تھے کہ یہ ٹھی بھر جو بڑی قیمتی چیز ہے۔ان مٹھی بھر جو دینے والوں کا بھی جنگ لڑنے میں وہی حصہ تھا جو مالداروں کا تھا۔مثلاً حضرت عثمان نے بارہ ہزار چندہ دیا۔حضرت ابوبکر نے اپنی ساری جائیداد خدا تعالیٰ کی راہ میں دے دی۔حضرت عثمان اور حضرت ابوبکر کا چندہ بے شک زیادہ تھا مگر وہ غریب آدمی بھی قربانی میں ان لوگوں سے کسی طرح کم نہ تھا جس نے سارا دن محنت کر کے مٹھی بھر جو کمائے اور پھر اُن کی روٹی پکا کر اپنے بچے کی کے منہ میں نہیں دی، اس مٹھی بھر جو کی روٹی پکا کر اس نے اپنی بیوی کہ منہ میں نہیں دی بلکہ اس کی نے وہ سارے دن کی کمائی مٹھی بھر جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دی۔وہ مٹھی بھر جو مالداروں کے چندوں سے کسی صورت میں بھی کم نہیں تھے کیونکہ خدا تعالیٰ کے