انوارالعلوم (جلد 21) — Page 103
انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۰۳ اللہ تعالیٰ سے سچا اور حقیقی تعلق قائم کرنے میں ہی ہماری کا کامیابی ہے کرواتے تھے، کشتیاں لڑواتے تھے ، گتکے کی مشق کروایا کرتے تھے۔بخاری میں آتا ہے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند حبشیوں کو جو مسلمان ہو گئے تھے بلایا اور حضرت عائشہ سے فرمایا کیا تم تماشہ دیکھنا چاہتی ہو؟ بعض لوگ اس حدیث کا یہ مطلب لیتے ہیں کہ مسجدوں میں تماشہ کروانا جائز ہے۔محدثین نے اس حدیث کا ہیڈنگ ہی اس طرز کا باندھا ہے کہ اس سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ آیا مسجد میں تماشہ کروانا جائز ہے یا نہیں؟ لیکن اس تماشا سے مراد مداری یا بندر وغیرہ کا تماشا نہیں بلکہ فوجی کرتب ہیں ، لڑائی کے ہنر ہیں اور ان کاموں کی مسجد میں مشق کروانا جائز ہے۔بلکہ مسجدیں تو ان کاموں کے لئے نہایت عمدہ مقام ہیں لوگ وہاں نماز کے لئے اکٹھے ہوتے ہیں اور وہ سب ان مشقوں سے مستفید ہو سکتے ہیں۔عام تماشا سے مراد وہ نظارہ ہوتا ہے جو دلچسپی کا موجب ہو لیکن اُس میں فائدہ کچھ نہ ہومگر یہ کرتب دلچسپی کا موجب بھی ہیں اور مفید بھی ہیں۔بہر حال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ سے فرمایا کیا تم کی تما شا د یکھنا چاہتی ہو؟ آپ نے فرمایا ہاں میں تما شا دیکھنا چاہتی ہوں۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کندھا نیچا کر لیا اور میں ایڑیوں کے بل کھڑی ہو گئی اور آپ کے کندھوں کے اوپر سے جھانکتی رہی۔اُس وقت مسجد میں چند حبشی اپنے فوجی ہنر دکھا رہے تھے۔کے غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان چیزوں کی مشق کروایا کرتے تھے۔جنگ بدر کے موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو مورچوں پر کھڑا کر دیا تو آپ نے ایک طرف بیٹھ کر دعائیں کرنی شروع کیں کہ اے خدا! آج مسلمانوں کو فتح دے۔آپ نے اس موقع پر اتنی دعائیں کیں کہ آپ کی سجدہ گاہ آنسوؤں سے تر ہوگئی۔حضرت ابوبکر نے عرض کیا يَا رَسُولَ الله ! کیا آپ کو یقین نہیں کہ دشمن کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ مسلمانوں کو فتح عطا کرے گا ؟ آپ نے فرمایا ابوبکر ! خدا تعالیٰ کے ہم سے وعدے تو ہیں لیکن خدا تعالیٰ غنی بھی ہے ہمارا کام ہے کہ ہم دنیوی سامان بھی جمع کریں اور اپنی کو تا ہی کا بھی اقرار کریں تا وہ یہ بھی نہ کہے کہ ہم نے اُس کے پیدا کردہ سامانوں سے فائدہ نہیں اُٹھایا اور یہ بھی نہ کہے کہ ہم نے اپنے سامانوں پر بھروسہ کرلیا ہے۔A