انوارالعلوم (جلد 21) — Page 66
انوار العلوم جلد ۲۱ ۶۶ ہر عبدالشکور کنزے کے اعزاز میں دعوتوں کے مواقع پر تین تقاریر کھل گئی اور آپ نے اسلام قبول کر لیا۔تھوڑے عرصہ کے بعد آپ نے اس بات کا اظہار کیا کہ آپ اسلام کی خدمت کے لئے اپنی زندگی وقف کرنا چاہتے ہیں لیکن قیدی ہونے کی صورت میں آپ آزادی سے اپنے اس ارادہ کو عملی جامہ نہیں پہنا سکتے تھے۔تھوڑے عرصہ کے بعد انہیں جبری طور پر جرمنی بھیجا گیا اور وہاں یہ بھی کوشش کرتے رہے اور ادھر ہم بھی کوشش کرتے رہے اور متواتر دو تین سال کی کوشش کے بعد آپ اپنے ارادہ میں کامیاب ہوئے اور کڑاکے کی سردی میں کئی دن سفر کرتے ہوئے آپ سوئٹزر لینڈ پہنچے وہاں سے جماعت نے آپ کو انگلینڈ پہنچایا اور انگلینڈ سے پھر یہاں آئے۔یوروپین لوگوں میں سے جنہوں نے اسلام کو بطور اسلام قبول کیا ہے مسٹر کنزے دوسرے آدمی ہیں۔پہلے آدمی بشیر احمد آرچرڈ ہیں۔وہ بھی نہایت مخلص اور اسلام کے ساتھ ایک قسم کا عشق رکھنے والے ہیں۔وہ پہلے آدمی ہیں جس نے مجھ پر یہ اثر ڈالا کہ انگریزوں کی بھی روحانی اصلاح ہو سکتی ہے۔اس سے پہلے جو شخص مجھ سے یہ پوچھتا تھا کہ برطانیہ مشن میں آپ کو کہاں کی تک کامیابی حاصل ہوئی ؟ میں اُس سے کہتا تھا کہ بظاہر ہمیں اُس کا کوئی فائدہ نظر نہیں آتا اور جہاں تک مذہب کا سوال ہے ہمیں کوئی انگریز مسلمان ہوتا نظر نہیں آتا۔انگریز لوگ ایک می سوسائٹی کے طور پر دوسرے مذہب کو قبول کر لیتے ہیں۔وہ اپنا لباس بدل لیتے ہیں ، اپنی خوراک بدل لیتے ہیں اور اسلام یا کسی اور مذہب میں داخل ہو جاتے ہیں لیکن اُس کی اہمیت کو نہیں سمجھتے۔اُن کے اندر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ہم نے اپنی ہر چیز کو اس کے لئے قربان کرنا ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ کیا یہ کوئی کم احسان ہے کہ ہم نے اس مذہب کو قبول کر لیا ہے۔انہوں نے جو قربانی کرنی تھی وہ مذہب تبدیل کر کے اُنہوں نے کر لی ہے لیکن بشیر احمد آرچرڈ پہلا شخص تھا جس نے ی سچائی کے طور پر اسلام کو قبول کیا اور صرف قبول ہی نہیں کیا بلکہ خدمت اسلام کے لئے اپنی زندگی وقف کر دی اور اب وہ بڑے اخلاص کے ساتھ خدمت اسلام کر رہا ہے۔اس سے پہلے بھی کچھ کی آدمی تھے مثلاً عبداللہ کو کم وغیرہ جو اسلام کو ہی سچا مذہب سمجھتے تھے اور اُن کے اندر اخلاص بھی پایا جاتا تھا لیکن وہ اسلام کو اُس کی اصولی تعلیم کے لحاظ سے سچا مانتے تھے اور اس پر عملاً کار بند نہیں ہوتے تھے۔بعض مواقع پر وہ شراب بھی پی لیں گے اور اگر وقت نہیں ملا تو وہ نماز بھی چھوڑ دیں