انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 55 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 55

انوار العلوم جلد ۲۱ تقریر جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ لاہور ۱۹۴۸ء کیفیت ہے مگر ہم جب تاریخ اسلام پڑھا کرتے تھے تو ہمارے اندر ایک جوش پیدا ہوتا تھا کہ کاش! ہم بھی اُس وقت ہوتے اور اس قسم کی قربانیاں کرتے پھر ہماری زندگی میں ہی خدا تعالیٰ نے ایسا موقع دے دیا ہے جب ہم وہی قربانیاں پیش کر سکتے ہیں جو صحابہ نے اپنے وقت میں کیں۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ بعض لوگوں میں یہ جوش نہیں پایا جاتا جو لوگ راسخ الایمان ہیں ان میں بے شک یہ نمونہ بھی پایا جاتا ہے۔ایک دوست نے مجھے بتایا کہ ایک جگہ ہم نے کشمیر میں جانے کے لئے احمدیوں میں تحریک کی اور بتایا کہ یہ ملکی سوال ہے وہاں ضرور جانا چاہئے اس پر ایک بیوہ نے جس کا ایک ہی بچہ تھا سوال کیا کہ کیا یہ ہمارا دینی فرض ہے؟ اس پر اُس دوست نے کہا اس وقت حفاظت اسلام کا کی سوال ہے اور وہاں جانا ضروری ہے۔اس پر اُس بیوہ نے اپنے اکلوتے بچے کو آواز دی اور کہا او فلانے ! تو بولتا کیوں نہیں دین کے لئے تمہاری جان کی ضرورت ہے اور تو چپ بیٹھا ہے۔اس کی دوست نے بتایا کہ اس بیوہ نے اُسی وقت اپنے اکلوتے بچے کو کشمیر کے لئے بھیج دیا۔اسی طرح ایک اور عورت کے متعلق جس کے دو بیٹے اور دو پوتے تھے ایک دوست نے بتایا کہ جب ہم نے اُسے تحریک کی کہ اس وقت اسلام کی خاطر جان کی قربانی کی ضرورت ہے تو وہ عورت اُس وقت گھر سے باہر کھڑی تھی اُس نے اپنے دونوں بیٹوں اور دونوں پوتوں کو آواز دے کر کہا جب تک تم سب کشمیر چلے نہیں جاؤ گے میں گھر میں داخل نہیں ہونگی۔کہنے والا کہتا ہے کہ ہم نے کہا چاروں ج نہیں ہم فی الحال دو کو لے جاتے ہیں مگر اُس عورت نے بڑے اصرار سے کہا نہیں چاروں کو لے کی جاؤ۔مگر جب ہم چاروں کے لے جانے پر رضامند نہ ہوئے تو اس نے کہا۔اچھا دونوں کو لے جاؤ۔یہ چیز ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے۔در حقیقت جذبہ نیک ، جذبہ نیک پیدا کرتا ہے۔پہلی عورت نے بھی اپنے بیٹے سے کہا کہ دین کو تیری جان کی ضرورت ہے اگر تو دریغ کرے گا تو میں تجھ سے خوش نہیں ہونگی اور دوسری عورت نے بھی یہی نمونہ دکھایا۔جس وقت میں نے یہ واقعہ سنا اُس وقت میری وہی کیفیت ہوگئی جو مالک بادشاہ کی ہوئی تھی۔مالک ۱۸ سال کی عمر میں یتیم ہو گیا تھا۔اس کے والد ( جو ایک بڑا بادشاہ تھا ) کے مرنے کے بعد اس کے ایک اور بیٹے اور ایک بھائی نے حصولِ تخت کے لئے لڑائی شروع کر دی۔نظام الدین طوسی جو اُس وقت