انوارالعلوم (جلد 21) — Page 629
انوار العلوم جلد ۲۱ ۶۲۹ قرونِ اولی کی نامور خواتین اور صحابیات کے ایمان افروز۔۔بہر حال قرآن کریم کا پڑھنا مقدم ہے۔پھر اس پر عمل اس طرح ہوگا کہ ہمیں دوسروں کو قرآن کریم سکھانا ہوگا اور اس بارہ میں ہمیں کبھی بھی دوسرے سے دشمنی کا طریق اختیار نہیں کرنا۔اس سے آگے کئی بخشیں ہیں کہ عورتوں کو تعلیم دینی چاہئے یا نہیں ؟ حکومت میں یہ کہاں تک حصہ لے سکتی ہیں؟ پردہ کرنا چاہئے یا نہیں ؟ مسلمانوں میں ایک فریق مذہبی ہے۔وہ کہتا ہے کہ پردہ اسلام سے ثابت ہے مگر بعض دوسرے لوگ پردہ کے مخالف ہیں وہ اسے پسند نہیں کرتے۔ان حالات میں ہماری عورتوں کو چاہئے کہ وہ دوسری عورتوں کو نرمی اور پیار اور محبت سے سمجھا ئیں۔وہ انہیں علمی اور عملی لحاظ سے بیمار سمجھیں اور ان کے علاج کی طرف متوجہ ہوں۔جب کسی ماں کا بچہ بیمار ہوتا ہے تو وہ اس پر قہقہے نہیں لگاتی بلکہ بیمار بچہ کو دیکھ کر اس کے اندر زیادہ رحم پیدا ہوتا ہے۔تم تندرست بچہ اور تندرست عورت کی طرف اتنا دھیان نہیں کرتیں جتنا دھیان تم ایک بیمار بچے یا ایک بیمار عورت کی طرف کرتی ہو۔پس ہمیشہ دوسروں کے غلط خیالات کی ہمدردی سے اصلاح کرنی چاہئے۔ساتھ ہی خدا تعالیٰ سے دعائیں کرنی چاہئیں کہ وہ ان کی کچھ اصلاح کرے اور اس غلط روش سے جس پر وہ جارہی ہیں انہیں محفوظ رکھے۔پھر اگر دوسری عورتیں یہ بجھتی ہیں کہ پردہ اسلام سے ثابت نہیں تو انہیں بھی چاہئے کہ وہ پردہ کی حامی عورتوں کو بجائے جاہل ، بے دین اور بد تہذیب کہنے کے ہمدردی اور محبت سے اپنا نقطہ نگاہ سمجھائیں۔اگر اسلام میں پردہ کا حکم ہے جیسا کہ ہم سمجھتے ہیں تو دوسروں کو مغربیت زدہ کہنے کی بجائے ہمدردی سے سمجھاؤ۔آگے ان کی مرضی ہے کہ وہ تمہاری بات پر عمل کریں یا نہ کریں۔ہم یورپ میں تبلیغ کی کرتے ہیں تو جو عورتیں احمدیت میں داخل ہوتی ہیں وہ پردہ نہیں کرتیں لیکن ہم انہیں کھلے طور پر بتا دیتے ہیں کہ اسلام عورت کو پردہ کا حکم دیتا ہے ہماری بہن رقیہ مارگرٹ آجکل یہاں آئی ہوئی ہیں۔ربوہ میں جب وہ آئیں تو جمعہ کے لئے میری بیویوں کے ساتھ باہر نکلیں دوسری سب عورتوں کو پردہ کئے ہوئے دیکھ کر وہ بھی متاثر ہوئیں اور کہنے لگیں کہ مجھے بھی کوئی کپڑا دے دو کہ میں پردہ کرلوں۔غرض اسلام بیشک پردہ کا حکم دیتا ہے لیکن دوسری عورتوں کی اصلاح اسی طرح ہو سکتی ہے کہ نرمی اور پیار کے ساتھ اُنہیں اس طرف توجہ دلائی جائے اور بُرا بھلا نہ کہا جائے۔میں نے ایک دفعہ لندن کے مبلغ سے کہا کہ وہ انگریز عورتیں جو اسلام میں داخل ہوں تم اُن