انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 628 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 628

انوار العلوم جلد ۲۱ ۶۲۸ قرونِ اولی کی نامور خواتین اور صحابیات کے ایمان افروز۔۔آتے ہیں مگر ہم اسے پڑھتے نہیں تو اس کا فائدہ کیا ؟ مصر کے ایک عالم نے ایک کتاب لکھی ہے جس میں اُس نے قرآن کریم کے نزول کی اٹھارہ اغراض بیان کر کے اس پر تمسخر اڑایا ہے۔ان میں سے تین اغراض اس نے یہ بتائی ہیں کہ قرآن کریم اس لئے نازل ہوا ہے کہ دوسرے سے چار آنے یا آٹھ آنے لے کر اس کے حق میں جھوٹی قسم کھائی جائے۔دوسرے قرآن کریم اس لئے نازل ہوا ہے تاریشم کا غلاف چڑھا کر اسے طاق میں رکھ دیا جائے۔تیسرے قرآن کریم اس لئے نازل ہوا ہے تا ہر چیز کو صفائی سے رکھا جائے مگر قرآن کریم پر سے گرد کو نہ ہٹایا جائے۔اسی طرح اس نے اٹھارہ اغراض گنائی ہیں۔اس نے لکھا ہے کہ قرآن کریم کی نزول کی باقی سب اغراض ہیں صرف اس کا پڑھنا یا اس پر عمل کرنا اس کے نزول کی غرض نہیں۔فرض کرو اگر قرآن کریم ہمیں آتا نہیں یا اس کو ہم پڑھتے نہیں تو اس کا فائدہ ہی کیا ؟ ہمارے استاد حضرت خلیفة المسیح الاوّل فرمایا کرتے تھے کہ عورتوں سے جب میں پوچھتا ہوں کہ کیا قرآن کریم پڑھتی ہو؟ تو بہت سی عورتیں یہ جواب دیتی ہیں کہ ہم تو ان پڑھ ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح الاوّل فرمایا کرتے تھے کہ سب غلط عذر ہیں بلکہ یہ بات کہہ کر وہ اپنے گناہ کو بڑھا لیتی ہیں۔پڑھی ہوئی عورت کے پاس اگر اس کے کسی عزیز کا خط آتا ہے تو وہ اسے ایک دفعہ پڑھ کر رکھ دیتی ہے لیکن اگر کسی ان پڑھ عورت کے عزیز کا خط آجائے تو وہ جب تک سات دفعہ کسی سے پڑھوا کر سن نہ لے اُسے چین نہیں آتا۔وہ ایک شخص سے خط پڑھواتی ہے تو سمجھتی ہے کہ شاید یہ کوئی بات چھوڑ گیا ہو۔پھر وہ دوسرے کے پاس جاتی ہے تو اس کے متعلق بھی وہ یہی تی خیال کرتی ہے۔پھر تیسرے کے پاس جاتی ہے۔اسی طرح وہ کئی افراد سے خط پڑھوا کر سنتی ہے پھر کہیں اسے صبر آتا ہے۔آپ فرمایا کرتے تھے جب دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ پڑھی ہوئی عورت تو اپنے کسی عزیز کے خط کو ایک ہی دفعہ پڑھ کر رکھ دیتی ہے لیکن ان پڑھ عورت سات سات آٹھ آٹھ دفعہ اسے پڑھوا کر سنتی ہے تو اسے قرآن کریم بھی زیادہ سننا چاہئے اور بار بار سننا چاہئے تا پڑھنے والے کی غفلت سے کوئی بات چھوٹ گئی ہو تو وہ اور کسی سے پڑھا کر سن لے۔