انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 444 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 444

انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۴۴ اسلام اور ملکیت زمین یں کسی قسم کا دخل دینے کا حق نہیں۔سوائے زکوۃ وغیرہ کی وصولی کے جو اُس زمین پر حضرت عمر بن عبد العزیز کے متعلق لکھا ہے کہ انہوں نے اپنے لڑ کے عبدالمالک سے پوچھا کہ میری حکومت سے پہلے جو خلفاء نے بعض لوگوں کی زمینیں چھین لی تھیں ان کے متعلق لوگ مطالبہ کرتے ہیں تمہاری اس بارہ میں کیا رائے ہے؟ انہوں نے کہا کہ آپ فوراً یہ زمینیں واپس کریں ورنہ جن لوگوں نے ان پر پہلے خلفاء کے احکام کے ماتحت قبضہ کیا ہوا ہے آپ بھی ان کی کے گناہ میں شریک ہونگے۔اس پر حضرت عمر بن عبد العزیز نے فوراً ان جائدادوں کو واپس کی کرنے کا حکم جاری فرما دیا۔۶۴ رد المختار شامی جو حنفیوں کی نہایت ہی مستند کتاب ہے اس کی جلد ۵ صفحہ ۳۵۵ پرلکھا ہے کہ ملک الظا ہر بیبرس (A (BAYBARS جو مصر کا بادشاہ تھا اُس نے احکام جاری کئے کہ ہر زمیندار ثبوت پیش کرے کہ جو زمین اُس کے پاس ہے وہ اُس کی ملکیت ہے۔اگر وہ ایسا نہ کر سکا تی تو وہ زمین اُس سے چھین لی جائے گی۔اس پر شیخ الا سلام امام نووی کھڑے ہوئے اور آپ نے فرمایا کہ یہ فیصلہ بالکل جاہلا نہ ہے اور محض بغض پر مبنی ہے اور یہ کہ مسلمانوں کے علماء میں سے کسی ایک کے نزدیک بھی ایسا کرنا جائز نہیں بلکہ جس کی ملکیت میں کوئی زمین ہو وہی اُس کا مالک ہے۔اُس کا قبضہ ہی اُس کے مالک ہونے کا ثبوت ہے اور کسی کے لئے جائز نہیں کہ اُس پر کوئی اعتراض کرے اور نہ یہ کہ اُس سے ثبوت طلب کرے کہ کسی زمانہ میں یہ زمین تمہارے پاس کس طرح آئی تھی ( کیونکہ یہ مقدمہ اُس شخص کی طرف سے ہو سکتا ہے جسے اُس کا اصل مالک ہونے کا دعویٰ ہو نہ کہ حکومت کی طرف سے۔) امام نووی بادشاہ کو برابر اس بارہ میں ملامت کرتے رہے اور وعظ و نصیحتیں کرتے رہے یہاں تک کہ اُس نے اس حکم کو واپس لے لیا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق ایک روایت میں آتا ہے کہ جب انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد کے ماتحت یہودیوں اور عیسائیوں کو یمن سے نکالا تو آپ نے اُن کی زمینیں ضبط نہیں کیں بلکہ اُن کی زمینیں خریدیں۔۶۵ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اس مسئلہ میں اتنے متشدد تھے کہ جب انہیں معلوم ہوا کہ بغداد