انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 443 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 443

انوار العلوم جلد ۲۱ نواں باب ۴۴۳ اسلام اور ملکیت زمین کیا حکومت کسی کے مال پر جس میں زمین بھی شامل تے جبرا قبضہ کر سکتی ہے؟ آجکل بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ بے شک ایک انسان اس قدر زمین کا مالک بھی ہوسکتا ہے کہ جس کو وہ خود کاشت نہ کر سکتا ہو اور مقاطعہ پر بھی دے سکتا ہے لیکن اگر کسی وقت حکومت مصلحت ملکی کے مطابق چاہے تو اُس سے وہ زمین ضبط بھی کر سکتی ہے۔لیکن یہ بات درست نہیں۔اسلام کی رو سے ایسا کرنا ویسا ہی غصب ہو گا جیسا کوئی غیر حاکم کسی دوسرے کی زمین چھین لے۔پہلی دلیل تو اس کی یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور تمام مسلمانوں کی کے استعمال میں آنے والی مسجد کے لئے مدینہ میں زمین خریدنی چاہی۔بحقِ حکومت آپ نے ضبط کرنے کا ارادہ نہیں کیا۔دوسرے اِس بارہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور کئی احادیث بھی مروی ہیں جن سے زمین کا ضبط کرنا نا جائز ثابت ہوتا ہے۔رافع بن خدیج جن کی روایت پر آجکل بہت کچھ مدار رکھا جاتا ہے ان سے کتب احادیث میں ایک روایت ان الفاظ میں آتی ہے۔قال رسول الله صلى الله علیه وسلم من زرع بارض قوم بغير اذنهم فليس له من الزرع شيى وله نفقته الا یعنی جو شخص کسی زمین پر زمین کے مالک کی اجازت کے بغیر کاشت کرے اُس کو فصل کا کوئی حصہ نہیں ملے گا۔صرف اُس کا جو خرچ ہے وہ اُس کو دلوایا جائے گا۔۔اسی طرح سعد بن زید سے روایت ہے کہ قال رسول الله له من اخذ شبرا من ارض بغير حق طوقه من سبع ارضین ۱۲ جو شخص کسی کی زمین بغیر حق کے لے لے تو سات زمینوں کا طوق اُس کی گردن میں ڈالا جائے گا۔ائمہ اسلام نے اس بارہ میں یہ لکھا ہے کہ وہ آباد زمین جس کا مالک معلوم ہو بادشاہ کو اُس