انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 442 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 442

انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۴۲ اسلام اور ملکیت زمین اپنے گورنروں کو لکھا کہ تمام اُفتادہ زمین مقاطعہ پر دے دو۔چوتھے حصہ پر لگ جائے تو چوتھے حصہ پر لگا دو، تیسرے حصہ پر لگ جائے تو تیسرے حصہ پر لگا دو، پانچویں حصہ پر لگ جائے تو کی پانچویں حصہ پر لگا دو۔یہاں تک کہ اگر کوئی شخص زمین کاشت کرنے والا نہ ملے تو اگر کوئی دسواں حصہ دے کر ہی کاشت کرنے پر راضی ہو جائے تو دسویں حصہ پر ہی زمین دے دو لیکن زمین کو خالی نہ چھوڑو۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفاء اور آپ کے صحابہ سے عملاً یہ بات ثابت ہے کہ انہوں نے غلہ کی بٹائی پر زمین مقاطعہ پر دی۔اب رہا دوسرا طریق یعنی نقدی پر زمین کا دینا سوجیسا کہ بتایا جا چکا ہے امام ابو حنیفہ کے نزدیک تو در حقیقت یہی صورت جائز ہے، بٹائی جائز نہیں۔اور طاؤس کے نزدیک بٹائی ہی جائز ہے روپیہ پر دینا مکروہ ہے۔بہر حال اس امر کی تائید میں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث موجود ہیں چنانچہ رافع بن خدیج کی روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔زمین تین طرح پر کاشت کی جاسکتی ہے۔ایک تو اس طرح کہ کوئی شخص خود زمین کاشت کرے۔دوسرے اِس طرح کہ کسی اور نے اُس کو زمین دی ہو اور وہ کاشت کرے۔تیسرے اس طرح کہ زمین چاندی اور سونے کے بدلہ میں مقاطعہ پر لے کر کاشت کی جائے۔۶۰ فتح الباری جلد ۵ صفحہ ۱۷ پر لکھا ہے کہ قد اطلق ابن المنذر ان الصحابة اجمعوا على جواز كراء الارض بالذهب والفضة۔۔۔۔۔۔ونقل ابن بطال اتفاق فقهاء الامصار عليه یعنی ابن المنذر نے قطعی طور پر لکھا ہے کہ صحابہ اس امر پر متفق تھے کہ سونے اور چاندی کے بدلہ میں زمین مقاطعہ پر دینی جائز ہے۔اور ابن بطال نے بھی لکھا ہے کہ تمام مختلف ممالک کے علمائے اسلام اس بات پر متفق ہیں کہ سونے چاندی کے بدلہ میں زمین مقاطعہ پر دینی جائز ہے۔باقی رہا کسی کو زمین مفت بلا مبادلہ کاشت پر دینا سو اس کے متعلق کسی کو شبہ ہی نہیں ہو سکتا یہ احسان ہے اور احسان کو اسلام رد نہیں کرتا۔