انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 11

انوار العلوم جلد ۲۱ 11 تقریر جلسہ سالانہ جماعت احمد یہ لاہور ۱۹۴۸ء توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ وہ اس موقع پر زیادہ سے زیادہ جمع ہونے کی کوشش کریں۔نئے مرکز میں ہمارا پہلا سالانہ جلسہ ہونے کی وجہ سے یہ خاص طور پر ایک دعائیہ جلسہ ہوگا تا اللہ تعالیٰ ہمارے وہاں رہنے کو با برکت بنائے۔ہمارے لئے بھی اور ہم سے بھی زیادہ اسلام اور سچائی کیلئے اور خدا تعالیٰ کے نام کو بلند کرنے کیلئے۔پس احباب جس قدر زیادہ اس جلسہ میں شامل ہو سکیں شامل ہوں بلکہ ابھی سے اس کیلئے تیاری شروع کر دیں لیکن احباب یہ بھی یا درکھیں کہ اس سال کی وہاں کھانے کا سامان اکٹھا نہیں ہو سکا۔آجکل غلہ کی قلت ہے اور اس کی خرید پر گورنمنٹ کی طرف سے پابندیاں عائد ہیں جن کی وجہ سے ہم غلہ جمع نہیں کر سکتے دوسرے غلہ کی قیمت اتنی کی بڑھ گئی ہے کہ جماعت کے لئے اس کا خریدنا مشکل ہے اور پھر ایسے زمانہ میں جب کہ جماعت کی تمام دولت اور مال مشرقی پنجاب میں رہ گیا ہے غلہ خرید نا آسان کام نہیں۔ان مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں اپنے زمیندار بھائیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ ہر وہ شخص جو اس سال جلسہ پر آئے یا وہ افراد جو جلسہ پر آئیں اپنے ساتھ تین تین سیر گیہوں یا آٹافی کس کے حساب سے لیتے آئیں ان تین سیر میں سے ایک کھانا گیہوں یا آٹالا نے والے کا ہوگا اور ایک کھانا ایک ایسے شخص کا ہو گا جو غریب ہے یا شہری ہے اور باوجود کوشش کے اپنے ساتھ گیہوں یا آٹا نہیں لا سکتا۔یعنی ڈیڑھ سیر فی کس کھانے کا اندازہ ہے۔اُن تین سیر گیہوں یا آٹا میں سے ڈیڑھ سیر اُس فرد کا ہوگا اور ڈیڑھ سیر ایک اور شخص کا ہو گا جو خدا تعالیٰ کے دفتر میں اس کا مہمان لکھا جائے گا۔اگر سب لوگ اس پر عمل کریں تو گندم اتنی کافی جمع ہو جائے گی جس سے جلسہ کے ایام بغیر کسی ایسی تکلیف کے جو منتظمین کیلئے ہو یا مہمانوں کیلئے ہو آسانی کے ساتھ گزرسکیں گے۔اس موقع پر میں یہ بھی ذکر کر دینا چاہتا ہوں کہ اس جلسہ پر بھی عورتیں نہیں آ سکیں۔اوّل تو اس لئے کہ یہ جلسہ لاہور کی جماعت کا تھا۔کچھ عورتیں آئی ہیں مگر اتنی نہیں جتنی قادیان میں آیا کرتی تھیں۔قادیان میں اگر جلسہ کے موقع پر تمیں ہزار آدمی آتے تھے تو پندرہ ہزار کے قریب کی عورتیں ہوا کرتی تھیں اور جلسہ میں حاضری بھی ایسی ہی رہتی تھی۔مجھے یاد ہے آخری جلسہ سالانہ میں ہم نے مردم شماری کرائی تو مردانہ جلسہ گاہ میں ستائیس ہزار مرد تھے اس کے مقابلہ میں عورتوں کی تعداد تیرہ ساڑھے تیرہ ہزار تھی۔دوسری میٹنگ میں تمہیں اکتیس ہزار مرد تھے اور