انوارالعلوم (جلد 21) — Page 359
انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۵۹ قادیان سے ہماری ہجرت ایک آسمانی نقد ی تھی مجھ سے عقیدت رکھنے والے لوگ تو یہ کہہ سکتے تھے کہ میں مصیبت کی وجہ سے یہاں آ گیا ہوں مگر جو مخالف تھے انہیں تو مجھے چھوڑ دینا چاہیے تھا۔حضرت خلیفۃ اسیح الاوّل ایک واقعہ سنایا کرتے تھے وہ فرمایا کرتے تھے کہ ایک عورت بڑی محنتی تھی ، وہ سوت کا تا کرتی تھی اور جو اُجرت ملتی تھی اس سے ایک رقم اکٹھی کر کے اس نے سونے کے کڑے بنوائے۔ایک دن وہ سو رہی تھی کہ ایک چور آیا اور اس نے اس کے کڑے اُتارنے کی کوشش کی۔اس نے پانچ سال کی محنت کے بعد کڑے بنوائے تھے وہ ان کی حفاظت کے لئے کچھ وقت تک چور کا مقابلہ کرتی رہی لیکن آخر چور ز بر دستی کڑے چھین کر بھاگ گیا۔اس عورت نے چور کی شکل پہچان لی۔دیہات میں عورتوں کا یہ طریق ہوتا ہے کہ وہ گھروں سے باہر گلیوں میں چرخہ کا تا کرتی ہیں وہ بھی گلی میں بیٹھی ایک دن چرخہ کات رہی تھی کہ ایک شخص لنگوٹی پہنے گزرا۔اس عورت نے اُسے پہچان لیا کہ یہ وہی شخص ہے جس نے اس کے کڑے چرائے تھے۔اُس نے اُسے آواز دی اور کہا ذرا بات سن جاؤ۔وہ شخص گھبرایا اور وہاں۔بھاگا۔اس عورت نے کہا میں کسی کو بھید نہیں بتاؤں گی ، صرف میری ایک بات سن لو۔جب اس نے یہ سمجھا کہ یہ عورت جو کچھ کہہ رہی ہے سنجیدگی سے کہہ رہی ہے تو وہ واپس آیا اور اُس نے دریافت کیا کہ کیا بات ہے؟ اُس عورت نے کہا دیکھو! حلال اور حرام میں کتنا فرق ہوتا ہے۔مجھے سونے کے کڑے پہننے کا شوق تھا میں نے پانچ سال کی محنت کے بعد کڑے بنوائے مگر وہ تو لے گیا۔میں نے پھر محنت کی اور کڑے بنوا لئے چنانچہ دیکھ لو میرے پاس اب بھی کڑے موجود ہیں لیکن تیری وہی لنگوئی کی لنگوٹی ہے۔میں بھی اُن لوگوں کو یہی جواب دیتا ہوں کہ میرے پاس کڑے اب بھی موجود ہیں لیکن تمہاری وہی لنگوٹی کی لنگوٹی ہے۔بہر حال یہ خدا تعالیٰ کی سکیم تھی اور خدا تعالی یہ بتانا چاہتا تھا کہ قادیان سے باہر رہ کر بھی احمدیت ترقی کر سکتی ہے۔پھر بعض منافق کہتے تھے کہ احمدیت کی ترقی رُک رہی ہے لیکن خدا تعالیٰ نے کتنے بڑے انقلاب میں ڈال کر تمہیں دوبارہ اکٹھا کر دیا۔اگر یہ سلسلہ کمزور ہوتا تو اس ابتلاء کی تاب نہ لاسکتا اور ٹوٹ جاتا ، کمزور شیشہ ٹوٹ جایا کرتا ہے۔اگر منافق لوگوں کے کہنے کے مطابق یہ سلسلہ فی الواقعہ کمزور ہوتا تو بہشتی مقبرہ، مساجد، مینارۃ امسیح ، کالج ، سکول اور کروڑوں کی