انوارالعلوم (جلد 21) — Page xxx
انوار العلوم جلد ۲۱ پلٹ سکتی تھی۔۲۵ تعارف کتب اس کتاب میں حضور نے ایک طرف مسلم لیگی حکومت کو بھی زبر دست انتباہ کیا کہ اگر اُس نے غیر طبعی یا غیر شرعی تجاویز کی طرف توجہ کی تو وہ کمیونزم کے حملہ کا مقابلہ کر نیکی طاقت کھو بیٹھے گی دوسری طرف بڑے زمینداروں کو بھی توجہ دلائی کہ:۔وو اسلام کی بنیاد اخوت اور رحم پر ہے۔ان کو اپنے بھائیوں کی مشکلات کے حل کرنے میں سیاسی لیڈروں سے زیادہ کوشاں ہونا چاہیے۔اگر وہ غریب زمیندار کی مدد کو خود خوشی سے کریں گے اور ایسے قوانین کے بنانے میں حکومت کا ہاتھ بٹائیں گے جن سے ظلم دور ہو جائے اور اُن کا غریب بھائی آرام سے زندگی بسر کرے تو یہ بات دین اور دنیا دونوں میں ان کیلئے عزت اور آرام کا موجب ہوگی اور وہ اپنے پیدا کرنے والے کے سامنے سرخرو جا سکیں گے ورنہ وہ سمجھ لیں کہ اگر حکومت اسلامی احکام کے ادب سے کوئی جابرانہ قانون نہ بھی بنائے تو بھی خدائی عذاب سے اُن کو دو چار ہونا پڑے گا ا 66 اور کوئی چیز بھی اُن کو نہ بچا سکے گی۔“ حضرت مصلح موعود کی اس معرکۃ الآراء تصنیف کی بھاری خصوصیت یہ تھی کہ اسمیں آپ نے مسلمانانِ عالم کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کر کے اتمام حجت کر دی کہ :۔پس کوئی شخص میری بات سنے یا نہ سنے میں یہ صاف کہہ دیان چاہتا ہوں کہ ہمیں کمیونزم کے خوف کیوجہ سے کوئی بات نہیں کہنی چاہیے۔اگر کمیونزم اچھی چیز ہے تو اس سے خوف کے کوئی معنی نہیں ہمیں شوق سے اسے قبول کرنا چاہیے اور اس کے خلاف سب باتوں کو چھوڑ دینا چاہیے۔خواہ مذہب کے نام پر کہی جاتی ہوں یا کسی اور نام پر جو بات ٹھیک ہے وہ بہر حال ٹھیک ہے۔لیکن اگر کمیونزم غلط ہے تو پھر محض اس وجہ سے کہ وہ ایک ایسی تعلیم پیش کر رہی ہے جس کی وجہ سے عوام الناس اُسکی طرف بھاگے جا رہے ہیں ہمارا اُس کو قبول کر لینا خود کشی کے مترادف ہوگا اور ہمیں بہادروں کی صف میں نہیں بلکہ بزدلوں کی