انوارالعلوم (جلد 21) — Page xxix
انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۴ تعارف کتب اسلامی اصلاح“ رکھ دیا۔بعض حلقوں نے اسلامی تعلیمات کو توڑ مروڑ کر ایسی شکل دینے کی کوشش کی کہ لوگ اس تحریک کو اسلامی ہی سمجھیں۔بعض نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے تعامل کو نظر انداز کر کے کچھ نئے معانی اُن آیات اور احادیث کو دے دیئے جن سے اُن کے نظریہ کی تصدیق ہوتی تھی۔برسر اقتدار مسلم لیگ پارٹی نے اس پروپیگینڈا سے متاثر ہو کر زمیندارہ سسٹم کی اصلاح کیلئے پنجاب، سندھ، سرحد اور مشرقی بنگال میں کمیٹیاں مقرر کر دیں جن کی رپورٹوں پر غور کرنے کے بعد مرکزی مسلم لیگ نے ایک رپورٹ تیار کی جس پر مسلم لیگ کی مجلس عاملہ نے زمیندارہ اصلاح سے متعلق کچھ اصول وضع کئے اور فیصلہ کیا کہ بڑی بڑی زمینداریاں اور جاگیرداری بہر حال ختم کر دی جائے اور صوبائی حکومتوں کو توجہ دلائی کہ وضع کردہ اصولوں کو جاری کرنیکی کوشش کریں۔جہاں تک حکومت وقت کے فیصلوں کا تعلق تھا حضرت مصلح موعود کو اس پر بحث کر نیکی چنداں ضرورت نہ تھی کیونکہ آپ کا یہ قطعی مسلک تھا کہ سیاسی امور سیاسی لوگوں پر ہی چھوڑ دیئے جائیں لیکن ایک بین الاقوامی مذہبی جماعت کے دینی راہنما کی حیثیت سے آپ نے یہ گوارا نہ کیا کہ اسلام کے نام پر کوئی ایسی بات کہی جائے جو اسلام سے ثابت نہ ہو چنانچہ آپ نے اس اہم مذہبی فرض کی بجا آوری کیلئے اسلام اور ملکیت زمین “ کے نام سے ایک پُر از معلومات یہ کتاب تحریر فرمائی جو جنوری ۱۹۵۰ء میں شائع ہوئی۔یہ کتاب ۱۲ ابواب مشتمل ہے اور اس میں آپ نے ملکیت اشیاء کے قانون ، ملکیت زمین کے اصول ، جاگیرداری ، وسیع رقبہ اراضی کی ملکیت، لگان اور بٹائی پر زمین دینے اور حکومت کا عوام کی جائیداد پر جبراً قبضہ کرنے کے مسائل پر خالص اسلامی نقطہ نگاہ سے روشنی ڈالی۔نیز سندھ زمیندارہ کمیٹی اور مسلم لیگ کی زمیندارہ کمیٹیوں کی بعض خامیوں پر عقلی بحث کی اور آخر میں کسانوں اور کاشت کاروں کی حالت زار کی اصلاح کیلئے ایسی مفید تجاویز بتا ئیں جن سے ملک میں رائج شدہ فرسودہ زمیندارہ نظام کی کایا