انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 73

انوار العلوم جلد ۲۰ ۷۳ دیباچہ تفسیر القرآن ہو گئے کیونکہ ہر ایک نے انہیں اپنی اپنی بولی بولتے سنا اور سب حیران ہوئے اور تعجب کر کے آپس میں کہنے لگے دیکھو کیا یہ سب جو بولتے ہیں جلیلی نہیں ! پس کیونکر ہم میں سے اپنے اپنے وطن کی بولی سنتا ہے۔ہم پارتھی اور میدی اور عیلامی اور رہنے والے مسوپوتامیہ، یہودیہ اور کپد کیہ۔نپس اور آسیہ کے فروگیہ اور پمفولیہ۔مصر اور لیبیا کے اس حصہ کے جو قرینی کے علاقہ میں ہے اور رومی مسافر یہودی اور یہودی مرید۔کریتی اور عرب کے ہو کے ہم اپنی اپنی زبانوں میں انہیں خدا کی بڑی باتیں بولتے سنتے ہیں اور سب حیران ہوئے اور گھبرا کے ایک دوسرے سے کہنے لگا کہ یہ کیا ہوا چاہتا ہے اوروں نے ٹھٹھے سے کہا کہ یہ نئی ئے کے نشے میں ہیں۔اسے اس حوالہ سے ثابت ہے کہ اُس وقت تک فلسطین کے لوگوں کی زبان عبرانی تھی اور غیر زبانوں کی بولیاں بولنا اُن کے لئے ایک غیر معمولی بات تھی۔جو نام اوپر گنائے گئے ہیں ان میں صاف طور پر رومیوں کا ذکر آتا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اُس زمانہ میں رومی زبان فلسطین کی زبان نہیں تھی اور اس میں باتیں کرنا لوگوں کے لئے ایک اچنبھے کی بات تھی۔اس بات سے قطع نظر کر کے کہ یہ واقعہ کس حد تک صحیح ہے اس حوالہ سے اس بات کا تو یقینی طور پر ثبوت مل جاتا ت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صلیب کے واقعہ کے بعد بھی یہودیوں کی زبان عبرانی ہی تھی۔غیر زبانیں جاننے والے اُن میں بہت ہی کم پائے جاتے تھے۔حتی کہ جب مسیح کے حواریوں نے بعض غیر زبانوں میں باتیں کیں جن میں رومی زبان بھی شامل تھی تو لوگوں نے اُن پر یہ الزام لگا دیا کہ وہ ئے کے نشہ میں بکواس کر رہے ہیں۔اگر سارے ملک کی زبان رومی یا کچھ یونانی ہوتی تو کس طرح ہو سکتا تھا کہ عوام الناس ان زبانوں کو نہ سمجھ سکتے اور ان کی تقریروں کو بے معنی قرار دے کر انہیں شراب کے نشہ میں مخمور سمجھ لیتے۔مندرجہ بالا تمام دلائل سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہو جاتی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اور آپ کے حواریوں کی زبان عبرانی تھی لاطینی یا یونانی نہیں تھی۔پس جو اناجیل یونانی یا لاطینی میں ہمارے سامنے پیش کی جاتی ہیں وہ یقیناً حضرت مسیح کے بہت عرصہ بعد لکھی گئی ہیں اور اُس زمانہ میں لکھی گئی ہیں جبکہ عیسائیت رومیوں میں پھیل گئی تھی بلکہ رومن شہنشا ہیت دوٹکڑے ہو کر کچھ