انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 74

انوار العلوم جلد ۲۰ ۷۴ دیباچہ تفسیر القرآن اٹلی اور یونان کی حکومتوں میں تقسیم ہوگئی تھی۔اس قسم کی کتابیں جو سو یا دو سو سال بعد غیر معلوم مصنفوں نے لکھی تھیں اور زبر دستی حضرت مسیح اور ان کے حواریوں کی طرف منسوب کر دی گئی تھیں اُن سے انسان کی روحانیت کو کیا فائدہ پہنچ سکتا تھا۔ضرور تھا کہ ان کے ہوتے بھی نیا آسمانی صحیفہ نازل ہو جو اس قسم کی خرابیوں کی سے پاک ہو اور انسان اس یقین سے اس پر غور کر سکے کہ یہ پاک اور صاف کلام میرے پیدا کرنے والے کا تھا۔دوسری دلیل : انجیل میں حضرت مسیح ناصری صاف طور پر بیان فرماتے ہیں کہ میں پرانی کتابوں کو منسوخ کرنے نہیں بلکہ قائم کرنے آیا ہوں۔چنانچہ مستی میں لکھا ہے:۔یہ خیال مت کرو کہ میں تو رات یا نبیوں کی کتاب منسوخ کرنے کو آیا ، میں منسوخ کرنے کو نہیں بلکہ پوری کرنے کو آیا ہوں۔کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ تو رات کا ہر گز نہ مٹے گا جب تک سب کچھ پورا نہ ہو۔۷۲ اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح ناصری کا اصل کام یہودیوں کو دوبارہ موسوی مذہب پر قائم کرنا تھا، مگر انجیل کی موجودہ شکل ہمیں بتاتی ہے کہ موسوی شریعت اس کے ذریعہ سے بالکل منسوخ کر دی گئی ہے یہ امر اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ اناجیل درحقیقت وہ نہیں جو حضرت عیسی علیہ السلام نے پیش کی تھیں۔حضرت عیسی علیہ السلام کی تعلیم یقیناً وہی ہو گی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام دنیا میں لائے تھے۔صرف ایسے امور جو فقیہوں اور فریسیوں نے موسوی شریعت میں اپنی طرف سے داخل کر کے اسے بگاڑ دیا تھا، مٹا دیئے گئے ہوں گے۔لیکن انجیل فقیہوں اور فریسیوں کے احکام کو نہیں مٹاتی بلکہ موسی علیہ السلام اور ان کے بعد آنے والے نبیوں کے احکام کو بھی مٹاتی ہے۔اس طرح اس کا ایک حصہ اس کے دوسرے حصہ کو باطل قرار دیتا ہے اور ظاہر ہے کہ جس کتاب کا ایک حصہ دوسرے حصہ کو باطل قرار دے، وہ کتاب کسی ایک مصنف کی لکھی ہوئی نہیں ہو سکتی یا کسی معقول مصنف کی لکھی ہوئی نہیں ہوسکتی۔چونکہ کہا جاتا ہے کہ یہ کتابیں حضرت مسیح کے حواریوں کی لکھوائی ہوئی ہیں اس لئے یہ تو کہنا مشکل ہے کہ ان کتابوں کے