انوارالعلوم (جلد 20) — Page 592
انوار العلوم جلد ۲۰ ۵۹۲ احمدیت کا پیغام ہوں کہ تم اللہ تعالیٰ سے میرے متعلق دعا کرو اور خدا تعالیٰ سے ہدایت چاہو کہ اگر یہ سچا ہے تو ہماری راہنمائی فرما اور اگر یہ جھوٹا ہے تو ہمیں اس سے دور رکھ اور فرمایا کہ اگر کوئی شخص سیچے دل سے بغیر تعصب کے کچھ دن اس قسم کی دعا کرے گا تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کے لئے ہدایت کا رستہ کھول دے گا اور میری صداقت اس پر روشن کر دے گا۔سینکڑوں اور ہزاروں آدمی ہیں جنہوں نے اس طرح کوشش کی اور خدا تعالیٰ سے روشنی پائی۔یہ کتنی بڑی روشن دلیل ہے۔انسان اپنی عقل میں غلطی کر سکتا ہے لیکن خدا تو اپنی راہنمائی میں غلطی نہیں کر سکتا اور کیسا یقین ہے اپنی سچائی پر اس شخص کو جو اپنی صداقت کے پہچاننے کے لئے اس قسم کا طریق فیصلہ دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔کیا کوئی جھوٹا یہ کہہ سکتا ہے کہ جاؤ اور خدا سے میرے متعلق پوچھو؟ کیا کوئی جھوٹا شخص یہ خیال کر سکتا ہے کہ اس قسم کا فیصلہ میرے حق میں صادر ہوگا ؟ جو شخص خدا کی طرف سے نہیں لیکن اس قسم کے طریق فیصلہ کو تسلیم کرتا ہے وہ تو گویا اپنے خلاف خود ہی ڈگری دے دیتا ہے اور اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑی مارتا ہے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیشہ ہی دنیا کے سامنے یہ بات پیش کی کہ میں اپنے ساتھ ہزاروں دلائل رکھتا ہوں لیکن میں کہتا ہوں کہ اگر تمہاری ان دلائل سے تسلی نہیں ہوتی تو نہ میری سنو اور نہ میرے مخالفوں کی سنو۔خدا تعالیٰ کے پاس جاؤ اور اس سے پوچھو کہ آیا میں سچا ہوں یا جھوٹا ہوں اگر خدا تعالیٰ کہہ دے کہ میں جھوٹا ہوں تو بیشک جھوٹا ہوں لیکن اگر خدا تعالیٰ یہ کہے کہ میں سچا ہوں تو پھر تمہیں میری سچائی کے قبول کرنے سے کیا انکار ہے؟ اے عزیزو! یہ کتنا سیدھا اور راستبازی کا طریق فیصلہ تھا ہزاروں نے اس سے فائدہ اُٹھایا اور تمام وہ لوگ جو اس طریق فیصلہ کو اب بھی قبول کریں اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔اس طریق فیصلہ میں در حقیقت یہی حکمت کارفرما تھی کہ آپ سمجھتے تھے دین دنیا پر مقدم ہے۔آپ فرماتے تھے خدا تعالیٰ نے مادی چیزوں کو دیکھنے کے لئے آنکھیں دی ہیں۔مادی چیزوں کے سمجھنے کے لئے عقل بخشی ہے اور مادی اشیاء کو دکھانے کے لئے اس نے اپنا سورج پیدا کیا ہے اور ستارے پیدا کئے ہیں پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ روحانی ہدایتوں کے دکھانے کے لئے اس نے کوئی رستہ تجویز نہ کیا ہو۔یقیناً جب کبھی بھی کوئی شخص اس سے روحانی چیزوں کے دیکھنے کی