انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 593 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 593

انوار العلوم جلد ۲۰ ۵۹۳ احمدیت کا پیغام خواہش کرتا ہے ، خدا تعالیٰ اس کے لئے رستہ کھول دیتا ہے وہ خود قرآن کریم میں فرماتا ہے والَّذِينَ جَاهَدُوا فينا لنهدينهُمْ سُبُلَنَا ٢٢ جو لوگ بھی ہمارے ملنے کی خواہش رکھتے ہوئے جد و جہد سے کام لیتے ہیں ہم ان کو ضرور اپنا رستہ دکھا دیتے ہیں۔خلاصہ کلام یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا طریق اپنی جماعت کے لئے بھی کھولا اور اپنے منکروں کے سامنے بھی اسی طریق کو پیش کیا۔ہمارا خدا ایک زندہ خدا ہے۔وہ اب بھی کا رخانہ عالم چلا رہا ہے دنیا کا بھی اور دین کا بھی۔ایک مؤمن کی کیلئے ضروری ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اس سے تعلق پیدا کرے اور اس کے قریب ہوتا چلا ئی جائے اور وہ شخص جس پر ہدایت ظاہر نہیں ہوئی اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے ہی روشنی چاہے اور اسی کی مدد سے حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کرے۔پس اصل کام اور اصل پیغام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہی تھا کہ وہ دنیا کی اصلاح کریں اور بنی نوع انسان کو پھر خدا تعالیٰ کی طرف لے جائیں اور جو لوگ خدا تعالیٰ کے ملنے سے مایوس ہیں ان کے دلوں میں خدا تعالیٰ کی ملاقات کا یقین پیدا کریں اور اس قسم کی زندگی سے لوگوں کو روشناس کریں جو موسیٰ اور عیسی علیہا السلام اور دوسرے انبیاء کے زمانہ میں لوگوں کو نصیب تھی۔اے عزیز و! پرانی کتابیں پڑھ کر دیکھو۔پھر خود اپنے اسلاف کی تاریخ دیکھو کیا ان لوگوں کی زندگیاں مادی تھیں؟ کیا ان کے کام صرف مادی تدابیر سے چلتے تھے؟ وہ لوگ خدا تعالیٰ کی محبت کے حاصل کرنے کے لئے رات دن تڑپتے تھے اور ان میں سے کامیاب لوگ خدا تعالیٰ کی کے معجزات اور نشانات سے حصہ پاتے تھے اور یہی وہ زندگی تھی جو ان کو دوسری قوموں کے لوگوں سے ممتاز کرتی تھی لیکن آج وہ کونسا امتیاز ہے جو مسلمانوں کو ہندوؤں اور عیسائیوں اور دوسری قوموں کے مقابلہ میں حاصل ہے؟ اگر کوئی ایسا امتیاز نہیں تو پھر اسلام کی ضرورت کیا ہے؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسا امتیاز ہے لیکن مسلمانوں نے اسے بھلا دیا اور وہ امتیاز یہ ہے کہ اسلام میں ہمیشہ کیلئے خدا تعالیٰ کا کلام جاری ہے اور ہمیشہ ہی خدا تعالیٰ کے ساتھ براہِ راست تعلق پیدا کیا جاسکتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضان کے یہی تو معنی ہیں۔آپ کے ہے۔فیضان کے یہ معنی تو نہیں ہو سکتے کہ ہم بی اے یا ایم اے کا امتحان پاس کر لیں۔کیا ایک عیسائی