انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 468 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 468

انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۶۸ دیباچہ تفسیر القرآن شروع ہو جاتی ہے۔کچھ دنوں میں اس کے اندر غلظت اور گاڑھا پن پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے کی اور وہ ایک لچکدار چیز بن جاتی ہے پھر اس کے اندر ہڈی کا مادہ نشو و نما پانے لگتا ہے جس کے بعد گوشت پورے طور پر جسم پر نشو و نما پا کے ظاہری تخلیق مکمل ہو جاتی ہے۔اس سلسلہ کے ساتھ ساتھ جسم میں سے ایسے مواد پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں جو اس نباتی قسم کے نشو ونما کو حیوانیت میں تبدیل کر دیتے ہیں اور آخر ایک سو چنے اور سمجھنے والا انسان پیدا ہو جاتا ہے۔اس آیت میں وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا گیا ہے کہ روحیں کہیں باہر سے نہیں آتیں بلکہ اسی جسم میں سے جو رحم مادر میں نشو و نما پاتا ہے ایک نیا مادہ پیدا ہوتا ہے جو دوسری نباتی چیزوں سے انسان کو علیحدہ کر کے اسے حیوان کا نام دیتا ہے اور حیوانی حالت سے ترقی کر کے ایک اعلیٰ انسان پیدا ہوتا ہے جس میں عقل اور سمجھ ہوتی ہے اور جس میں ترقی کا مادہ پایا جاتا ہے۔ہم دنیا کی کی چیزوں میں سے موٹی مثال کے طور پر ان کیمیاوی تغیرات کو پیش کر سکتے ہیں جو باہم اختلاط کے بعد ایک بالکل نئی شکل اختیار کر لیتے ہیں جیسے چقندر یا گندم یا مکی یا گڑ سے شراب تیار ہو جاتی ہے۔شراب ایک ایسی چیز بن جاتی ہے جو اپنی پہلی شکل سے بالکل مختلف ہوتی ہے جبکہ اس کے منبع میں سڑنے کی طاقت ہے اس میں قائم رہنے اور قائم رکھنے کی طاقت ہوتی ہے اور جبکہ اس کی کے منبع کا اثر دماغ پر کسی قسم کا بھی نہیں پڑتا، یہ دماغ کے اُو پر خصوصیت کے ساتھ اثر کرنے والی چیز ہوتی ہے۔غرض اس مضمون میں قرآن کریم پہلی تمام کتب سے جدا گا نہ تعلیم پیش کرتا ہے قرآن کریم سے پہلے مختلف مذاہب میں روحوں کے متعلق دو خیال تھے ایک خیال تو یہ تھا کہ روحیں خدا تعالیٰ کی پیدا کی ہوئیں نہیں ، بلکہ خدا تعالیٰ کی طرح انادی ہیں۔خدا تعالیٰ ان انادی روحوں کو مناسب موقع پر مختلف جسموں میں داخل کرتا رہتا ہے۔مذاہب میں سے ایک دوسرے حصہ کا یہ خیال تھا کہ روحیں انادی تو نہیں ، ہیں تو خدا تعالیٰ کی مخلوق لیکن جب اُس نے دنیا پیدا کی تو اُسی وقت آئندہ پیدا ہونے والی روحیں بھی پیدا کر دیں اور اسی پیدا کئے ہوئے خزانہ میں سے وقتاً فوقتاً وہ کچھ ارواح انسانی جسم میں ڈال کر بھیجتا رہتا ہے۔بعض مذاہب ایسے بھی تھے جو روح کے متعلق بالکل خاموش تھے۔وہ موجودہ انسان کے ظاہر کے متعلق بحث کو کافی سمجھتے تھے اور اس کی پیدائش یا اُس کی روح کے متعلق کسی قسم کا خیال ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتے