انوارالعلوم (جلد 20) — Page 469
انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۶۹ دیباچهتفسیر القرآن تھے۔اسلام وہ پہلا اور آخری مذہب ہے جس نے اس مسئلہ کو صحیح طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا ج ہے اور بتایا ہے کہ روح در حقیقت انسانی جسم کے ارتقاء کا ایک انتہائی نقطہ ہے اور وہ کہیں باہر سے نہیں آئی بلکہ انسانی جسم کے تغیرات کے نتیجہ میں ہی وہ پیدا ہوئی ہے ہاں اس نے ایک علیحدہ کی وجود اختیار کر لیا ہے۔انسانی جسم کے محض عمل کا نام روح نہیں بلکہ روح انسانی مادہ ہی سے نکلی ہوئی ایک چیز ہے جس نے ایک مستقل وجود اختیار کر لیا ہے۔جس طرح شراب اور سر کہ دانوں اور پھلوں ہی میں سے نکلتے ہیں لیکن وہ ایک علیحدہ وجود اختیار کر لیتے ہیں بظاہر تو یہ ایک معمولی بات معلوم ہوتی ہے لیکن اگر ہم غور کر کے دیکھیں تو اس حقیقت کے اظہار سے اسلام نے مذہب کا نقطۂ نگاہ بالکل بدل دیا ہے روحوں کو انادی ماننے یا خدا تعالیٰ کے کسی قدیم زمانہ میں ان کو پیدا کر کے اس دنیا میں بھیجتے رہنے کے عقیدہ نے مختلف مذاہب کے پیروؤں میں یہ احساس پیدا کر دیا تھا کہ جسم کی صفائی اور جسم کے ارتقاء کا روح کے ساتھ کوئی تعلق نہیں لیکن اسلام نے اس حقیقت کو بیان کر کے اس طرف توجہ دلا دی کہ جسم کی صفائی اور جسم کے ارتقاء کا تعلق روح کے ساتھ بہت گہرا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جسم انسانی کے نشو و نما سے کوئی نہ کوئی روح تو ضرور پیدا ہو جائے گی لیکن اگر جسم انسانی کا خیال اچھی طرح رکھا جائے گا اگر حفظانِ صحت کے اُصول کو مدنظر رکھا جائے گا تو یقیناً ایک زیادہ فعال اور سمجھدار انسان پیدا ہو گا۔پس اس حقیقت کو بیان کر کے اسلام نے انسان کی روحانی اور دماغی ترقی کے لئے ایک نیا رستہ کھول دیا ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ روح تو اپنی ذات میں کوئی طاقت نہیں رکھتی اس لئے جسم کے تغیرات کا روح پر کیا اثر پڑ سکتا ہے یہ در حقیقت ایک غلط خیال ہے روح کا طاقت نہ رکھنا ایک بے معنی بات ہے اگر روح کوئی طاقت نہیں رکھتی تو وہ ایک بے حقیقت چیز ہے اصل بات یہ ہے کہ روح کے اندر طاقتیں تو ہیں لیکن روح بغیر جسم کے اپنی طاقتوں کو استعمال نہیں کر سکتی اور بہت سی مادی چیزیں دنیا میں ایسی ہیں جو بغیر کسی کے واسطہ کے اپنے آپ کو ظا ہر نہیں کر سکتیں جیسے بجلی ہے کہ وہ اپنا ظہور دوسری چیزوں کے ذریعہ سے کرتی ہے پس یہ درست نہیں کہ روح کے اندر طاقتیں نہیں ہوتیں۔روح کے اندر طاقتیں اور صفات ضرور ہوتی ہیں مگر اُن کا ظہور کسی نہ کسی جسم کے ذریعے سے ظاہر ہوتا ہے۔یہ تمام مضامین اور ایسے ہی بہت سے مضامین قرآن کریم میں